اردن کے سابق ولی عہد کا ویڈیو کے ذریعے اپنی نظربندی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اردن میں کل ہفتے کے روز ہونے والی گرفتاریوں اور حکومت کے خلاف سازش کی خبروں کے بعد سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ نے ٹویٹر کے ذریعے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ اسے اس کی اہلیہ اور کم سن بچوں سمیت گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔

شہزادہ حمزہ نے اپنی گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اس کی بیوی بچوں‌سمیت گھر میں نظر بند کیا گیا ہے۔

شہزادہ حمزہ کا کہنا تھا کہ اردنی فوج کے ایک سینیر افسر نے مجھےگھر میں نظر بند رہنے کو کہنا ہے اور کسی سے رابطہ کرنے سے منع کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میرے تمام ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور مجھ سے انٹرنیٹ کی سہولت بھی چھین لی گئی ہے۔

شہزادہ حمزہ کا کہنا ہے کہ اردن اس وقت کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ انہوں‌نے گرفتاریوں پر تنقید کی اور کہا کہ اردن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صدمے اور افسوس کا باعث ہے۔

سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ نے حکومت کے خلاف سازش کا حصہ بننے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی سازش کا حصہ نہیں اور نہ ہی انہیں بیرون ملک سے فنڈز مل رہے ہیں۔ میں اس بدانتظامی اور ریاستی اداروں پر عوام کی بد اعتمادی کا ذمہ دار نہیں ہوں‌۔

خیال رہے کہ یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف اردن کے چیف آف اسٹاف جنرل یوسف احمد الحنیطی نے شریف حسن بن زید اور شاہی دیوان کے سابق سربراہ باسم ابراہیم عوض اللہ سمیت کئی دوسرے اہم عہدیداروں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر حراست میں لینے کا اعتراف کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں