.

اردن کے شاہ عبداللہ ہمارے کلیدی اتحادی ہیں، ان کی حمایت جاری رکھیں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں حکومت کا تختہ الٹںے کی مبینہ ناکام کوشش کے بعد امریکا نے اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روزایک بیان میں کہا ہےکہ اردن کے شاہ عبد اللہ امریکا کے ایک اہم پارٹنر ہیں۔ امریکا ان کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہم ان اطلاعات کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں جن میں اردن میں حکومت کا تختہ الٹنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن عمان کے ساتھ رابطے میں ہے اور ہم اردنی حکام کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔ شاہ عبداللہ امریکا کے ایک اہم اتحادی ہیں اور انہیں ہماری پوری حمایت حاصل ہے۔

خیال رہے کہ کل ہفتے کے روز اردن میں سابق ولی عہد اور موجودہ فرمانروا کے سوتیلے بھائی کو حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزام میں ان کے محل میں نظر بند کیا گیا ہے۔

اردن میں حکام نے سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ کو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں ان کے محل میں نظربند کردیا ہے اور شاہی دیوان کے سابق سربراہ باسم عوض اللہ سمیت بیس افراد کو گرفتارکر لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد ملکی استحکام وسلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے،اس لیے انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات کی جائے گی۔

اردن کی سرکاری خبررساں ایجنسی بطرا نے ہفتے کے روز ان افرادکو حراست میں لینے کی اطلاع دی ہے ۔اس نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کی گرفتاری سکیورٹی وجوہ کی بنا پر عمل میں آئی ہے اور گذشتہ کچھ عرصے سے ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جارہی تھی۔

البتہ بطرا کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں پرنس حمزہ شامل نہیں ہیں۔بعض میڈیا اداروں نے ان کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔ان میں مؤقرامریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ بھی شامل ہے۔اس نے پرنس حمزہ کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

تاہم بعض اطلاعات کے مطابق اردن کے سابق شاہ حسین کی امریکانژاد بیوہ ملکہ نوراور بڑے بیٹے شہزادہ حمزہ بن حسین کودارالحکومت عمان میں ان کے محل میں نظربند کردیا گیا ہے۔انھوں نے مبیّنہ طور پر اپنے سوتیلے بھائی شاہ عبداللہ دوم کا تختہ الٹنے کی سازش کی تھی اور اب ان کے خلاف تحقیقات کی جائے گی۔

اردن کے شاہی محل کے حکام کے مطابق یہ اقدام ایک پُرپیچ اور پیچیدہ محلّاتی سازش کا پتا چلنے کے بعد کیا گیا ہے۔اس میں شاہی خاندان کے ایک فرد کے علاوہ قبائلی سردار اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بعض ارکان شریک تھے۔

اردن کے ایک انٹیلی جنس افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکہا ہے کہ ابھی مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔انھوں نے بتایا ہے کہ آرمی افسروں نے محل میں پہنچنے کے بعد شہزادہ حمزہ کو مطلع کیا تھا کہ انھیں حراست میں لیا جارہا ہے اور وہ اب نظربند ہیں۔

واضح رہے کہ شہزادہ حمزہ چار سال تک اردن کے ولی عہد رہے تھے۔اس کے بعد شاہ عبداللہ دوم نے اپنے بیٹے حسین کو ولی عہد مقرر کردیا تھا۔
اردن میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی اطلاعات سوشل میڈیا پرگردش کررہی ہیں۔تاہم فی الوقت یہ واضح نہیں کہ مبیّنہ سازشی گروپ اپنی سازش کو کہاں تک عملی جامہ پہنا چکا تھا اور ان کے کیا ارادے تھے۔

مذکورہ انٹیلی جنس افسر نے اس منصوبہ کو بہت منظم قراردیا ہے اور کہا ہے کہ بظاہر سازشیوں کے بیرون ملک بھی روابط استوار تھے لیکن انھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔

گرفتار افرادمیں شاہی خاندان کے ایک اور فرد شریف حسن بھی شامل ہیں۔شاہی دیوان کے سابق سربراہ باسم عوض اللہ ملک کے سابق وزیرخزانہ بھی رہ چکے ہیں اور انھوں نے اقتصادی اصلاحات کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا تھا

یہ بات اردنی فوج میں چیف آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ، میجر جنرل یوسف احمد الحنیتی نے آج ، ہفتے کے روز ، شاہی عدالت کے سابق چیف ، بسم ابراہیم عواد اللہ ، شریف حسن بن زید کی گرفتاری کے اعلان کے بعد کی ہے۔ اردن کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ، اور دیگر سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر۔

وہ سرگرمیاں جو اردن کی سلامتی کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہیں

ایک بیان میں ، انہوں نے شہزادہ حمزہ کی گرفتاری کی تردید کی ، لیکن اشارہ کیا کہ ان سے نقل و حرکت اور سرگرمیوں کو روکنے کے لئے کہا گیا ہے جو سیکیورٹی خدمات کے ذریعہ کی جانے والی مشترکہ جامع تحقیقات کے فریم ورک کے تحت اردن کی سلامتی اور استحکام کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ، اور جس کے نتیجے میں شریف حسن بن زید ، بسم ابراہیم عواد اللہ ، اور دیگر گرفتار ہوئے۔