.

شہزادہ حمزہ اوردوسری شخصیات نےاردن کی سلامتی کونقصان پہنچانے کی سازش کی:نائب وزیراعظم

سابق ولی عہد کے بیرون ملک روابط تھے،شاہ عبداللہ دوم نے سازش کا پتاچلنے پرسوتیلے بھائی سے رابطہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ ایمن الصفدی نے کہا ہے کہ سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ بن حسین نے ملک کی سلامتی واستحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ان کے بیرون ملک روابط تھے اور انھوں نے اردن کا امن تہ وبالا کرنے کے لیے مقامی حکام کوسڑکوں پرلانے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے اتوار کو عمان میں ایک نیوزکانفرنس میں حکومت کے خلاف سازش کے بارے میں ایک تفصیلی بیان پڑھ کر سنایا ہے اور بتایا ہے کہ ’’اب تک کی تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ سابق ولی عہد نے ملک کی سلامتی کو ہدف بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔‘‘

اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے سوتیلے بھائی شہزادہ حمزہ نے ہفتے کی شب ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ وہ گھرپر نظربند ہیں اور ان سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ گھر ہی میں رہیں اور کسی سے رابطہ نہیں کریں۔

تاہم بطرا کے مطابق اردن کے آرمی چیف نے شہزادہ حمزہ کے بیان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان سے صرف یہ کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ایسی نقل وحرکت اور سرگرمیوں کو روک دیں جو اردن کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا موجب ہوسکتی ہیں۔

اردن میں سکیورٹی حکام نے ہفتے کے روز سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ کو شاہ عبداللہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں ان کے محل میں نظربند کردیا تھا اور شاہی دیوان کے سابق سربراہ اور سابق وزیرخزانہ باسم عوض اللہ سمیت بیس افراد کو گرفتارکرلیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد ملکی استحکام وسلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے،اس لیے انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف اب تحقیقات کی جائے گی۔

ایمن الصفدی نے کہا ہے کہ ’’شہزادہ حمزہ دو ویڈیوز میں نمودار ہوئے ہیں، انھوں نے حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور مقامی اور غیرملکی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ ’’شاہ عبداللہ دوم نے سکیورٹی رپورٹ موصول ہونے کے بعد کسی بھی قسم کے مزید اقدام سے پہلے اپنے سوتیلے بھائی سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘‘

نائب وزیراعظم نے کہا:’’ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہرہوا ہے کہ یہ سرگرمیاں اور تحریکیں ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکی تھیں جن سے ملک کی سلامتی اوراستحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے تھے۔چناں چہ اس تناظر میں جناب شاہ عبداللہ دوم نے شہزادہ حمزہ سے براہ راست بات چیت کا فیصلہ کیا تاکہ اس معاملے کو خاندان کے اندر ہی سلجھا لیا جائے۔ مباداکوئی اس صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھائے۔‘‘

ان کے بہ قول ’’حکام نے شہزادہ حمزہ اور غیرملکی پارٹیوں کے درمیان مواصلاتی روابط کا سراغ لگایا تھا۔انھوں نے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ایک سازش وضع کی تھی۔حکام نے ان کی سرگرمیوں کی کچھ وقت کے لیے نگرانی کی تھی اورپھراس سازش کو پکڑا ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا ہے کہ ’’سکیورٹی سروسز سے اس سازش میں ملوث افراد کا معاملہ اسٹیٹ سکیورٹی عدالت کو بھیجنے کا کہا گیا ہے۔‘‘

اردن کی سکیورٹی فورسز نے جن افراد کو گرفتار کیاہے،ان میں سے سولہ اس وقت جیل میں قید ہیں۔ان میں شاہی دیوان کے سابق مشیر باسم عوض اللہ اور شاہی خاندان کے فرد شریف حسن بن زید شامل نہیں ہیں۔