.

اردن کا گرفتاریوں کے حوالے سے تفصیلی بیان جاری کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں العربیہ کے نمائندے کے مطابق صورت حال پرسکون ہے اور گرفتار شدگان کے ساتھ تحقیقات جاری ہیں۔

اس سے قبل اردن کے وزیر اطلاعات نے اعلان کیا تھا کہ حکومت آئندہ چند گھنٹوں میں ایک تفصیلی بیان جاری کرے گی۔ بیان میں ہفتے کے روز عمل میں آنے والی گرفتاریوں کے حوالے سے بتایا جائے گا۔ اردن کی فوج نے ملک کے سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ بن حسین کی گرفتاری کی تردید کی ہے۔ فوج کے مطابق شہزادے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں کو روک دیں جن کا مقصد اردن کے استحکام کو نشانہ بنانا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتائج پوری شفافیت کے ساتھ سامنے لائے جائیں گے۔

آج اتوار کے روز اردن کی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اسپیکر سینیٹ کا کہنا تھا کہ "ہم اردن کے استحکام کے تحفظ کے سلسلے میں شاہ عبداللہ دوم کے لیے اپنی بھرپور حمایت باور کراتے ہیں۔ اہمت بات یہ ہے کہ اردن کے عوام افواہوں پر کان نہ دھریں"۔

ادھر پارلیمنٹ کے اسپیکر عبدالمنعم العودات نے زور دے کر کہا کہ "اردن کے امن کے حوالے سے کسی بھی قسم کے ضرر کو یکسر مسترد کیا جاتا ہے۔ اردن کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں اقتصادی بحران اور کرونا کی وبا کے اثرات شامل ہیں۔ شاہ عبداللہ دوم کے لیے ہماری پوری وفا داری ہے۔ ہم ان کے اور ان کے ولی عہد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم پر لازم ہے کہ نفرت کے حامل عناصر اور بیرونی ایجنڈوں اور منصوبوں پر عمل پیرا افراد کے سامنے روک لگائیں"۔

اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے اور نہ انہیں نظر بند کیا گیا ہے۔ اردن کی فوج کے چیف آف اسٹاف نے شہزادہ حمزہ کی گرفتاری کے حوالے سے پھیلی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے مشترکہ جامع تحقیقات کے سلسلے میں الشریف حسن بن زید، باسم عوض اللہ اور دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب شہزادہ حمزہ نے برطانوی نشریاتی ادارے BBC پر نشر ہونے والی ایک نئی وڈیو میں تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے گھر میں بیوی اور بچوں کے ساتھ نظر بند ہیں۔ سابق ولی عہد کے مطابق فوج کے سربراہ نے ان سے گھر میں رہنے کا اور کسی کے ساتھ کوئی رابطہ نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہزادہ حمزہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ کسی سازش کا حصہ ہیں۔

اردن میں سابقہ عسکری اور شہری شخصیات کی گرفتاریوں پر کسی بھی رد عمل کے اندیشے کے سبب سخت سیکورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان افراد کے نام سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر زیر گردش ہیں۔ تاہم اردن کے حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

شہزادہ حمزہ بن الحسین 29 مارچ 1980ء کو پیدا ہوئے۔ وہ مرحوم فرماں روا شاہ حسین اور ملکہ نور حسین کے بڑے بیٹے ہیں۔ اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم شہزادہ حمزہ کے سوتیلے بھائی ہیں۔

شہزادہ حمزہ 7 فروری 1999ء سے 28 نومبر 2004ء تک اردن کے ولی عہد رہے۔ وہ اردن کی فوج کے سابق افسر بھی ہیں۔

شہزادہ حمزہ اندرون اور بیرون ملک مختلف مواقع اور سرکاری مشنوں کے حوالے سے شاہ عبداللہ دوم کی نیابت انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ توانائی کے سیکٹر کے لیے مشاورتی شاہی کمیٹی کے سربراہ اور اردن کی باسکٹ بال فیڈریشن کے اعزازی صدر بھی ہیں۔