.

ایران کی سرگرمیوں کے سبب جنم لینے والے عدم استحکام کا علاج لازم ہے : سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کسی بھی نئے جوہری معاہدے میں ایران کو زیادہ پابند بنایا جائے گا۔

اتوار کے روز دیے گئے ایک اخباری بیان میں بن فرحان نے کہا کہ ایران کو پابند بنانے کا معاملہ اس کی میزائل صلاحیت اور خطے میں مسلح جماعتوں کی حمایت سے متعلق ہو گا۔

سعودی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ "ہم اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ عالمی برادری جوہری معاہدے میں کمزوری اور تہران کی سرگرمیوں کے سبب خطے میں عدم استحکام کی صورت حال کے علاج کے لیے سنجیدگی سے کام کرے گی"۔

بن فرحان نے واضح کیا کہ "اگر ایران اپنا رویہ تبدیل کر لے تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں"۔

ادھر فرانس نے ہفتے کے روز ایران پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی جوہری پاسداریوں کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ روک دے تا کہ 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے حوالے سے جاری بات چیت کو مدد مل سکے۔

فرانس کے وزیر خارجہ جان ایف لودریاں کے مطابق انہوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ جوہری بات چیت میں تعمیری تعامل کا مظاہرہ کرے۔ لودریاں نے یہ بات اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اس سے قبل فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کے موقف پر اپنی "گہری تشویش" کا اظہار کر چکے ہیں۔

ادھر واشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مشاورت کے سلسلے میں منگل کو ویانا میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرے گا۔

امریکی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ "بات چیت میں زیر بحث آنے والے مقررہ امور میں وہ اقدامات شامل ہیں جو جوہری معاہدے کی پاسداری کی طرف لوٹنے اور پابندیوں میں نرمی کے واسطے ایران سے مطلوب ہیں"۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "اس وقت ہم ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کی توقع نہیں رکھتے ہیں تاہم اس حوالے سے ہماری سوچ کشادہ ہے"۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کر کے تہران پر دوبارہ سے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس کے جواب میں ایران نے معاہدے میں موجود بعض قیود کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا۔