.

حوثیوں کی بارودی سرنگوں کی بدولت تین ماہ میں 51 یمنی شہری جاں بحق اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں انسانی حقوق کی ایک نگراں تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران میں باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے بچھائی گئیں بارودی سرنگیں پھٹنے سے 51 شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ ان میں بچے اور عورتیں شامل ہیں۔

بارودی سرنگوں پر نظر رکھنے والے اس غیر سرکاری گروپ کی جانب سے اتوار کے روز جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی (جنوری، فروری، مارچ) میں بارودی سرنگوں سے آلودہ علاقوں میں خواتین اور بچوں سمیت 26 شہری جاں بحق اور 25 زخمی ہوئے۔

بیان کے مطابق یمن آج دنیا میں بارودی سرنگوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک شمار ہوتا ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق حوثیوں نے یمن کے 15 سے زیادہ صوبوں میں 10 لاکھ سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھائیں۔ یہ سرنگیں عام راستوں، کھیتوں اور شہریوں کی نقل و حرکت کے علاقوں میں نصب کی گئیں۔ ان میں سواریوں اور افراد کے خلاف استعمال ہونے والی سرنگوں کے علاوہ سمندری بارودی سرنگیں بھی شامل ہیں۔ ان سرنگوں میں زیادہ تر مقامی طور پر تیار کی گئی ہیں یا پھر درآمد شدہ سرنگیں ہیں جن کو مقامی طور پر بہتر بنایا گیا۔

زمینی بارودی سرنگیں پہاڑوں، وادیوں، چٹیل میدانوں اور رہائشی علاقوں میں بے قصور شہریوں کو نشانہ بنانے کے واسطے حوثی ملیشیا کا نمایاں ترین ہتھیار ہے۔ حوثی ملیشیا بارودی سرنگوں کی تنصیب کے بعد ہی کسی علاقے کو خالی کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور معذوری کا شکار ہو رہے ہیں۔ چوں کہ یہ بارودی سرنگیں کسی نقشے کے بغیر نصب کی جاتی ہیں اس وجہ سے انہیں ناکارہ بنانے یا ختم کرنے میں بڑی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔