.

آبا واجداد کا زراعتی پیشہ اپنانے والے سعودی معلم کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے صوبے جازان میں ایک مقامی استاد نے اسکولوں میں تدریس کا بھرپور عملی سفر پورا کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا تا کہ وہ اپنے آبا واجداد کے زراعت کے پیشے کے ساتھ وابستہ ہو سکے۔ مذکورہ سعودی استاد نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی وڈیو میں اپنی کہانی بیان کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے صامطہ ضلع سے تعلق رکھنے والے شہری نے بتایا کہ "میں نے زراعت کے شعبے میں اپنے سفر کا آغاز چھوٹے پیمانے پر اور تھوڑی سی چیزوں کی کاشت کے ساتھ کیا۔ اس کا مقصد ضلع کے لوگوں کے لیے سبزیوں کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ یہاں تک کہ میرا منصوبہ مملکت کے کئی علاقوں کے لیے مختلف قسم کی سبزیوں اور پھلوں کی فراہمی کا ذریعہ بن گیا"۔

سعودی استاد کا کہنا ہے کہ "اس کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب میرے بھائی نے اس جانب توجہ دلائی کہ بعض موسموں میں علاقے میں بعض سبزیوں کی قلت ہو جاتی ہے اور ان کی قیمتیں بڑی حد تک بڑھ جاتی ہیں۔ لہذا میں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اس تجربے میں قدم رکھا۔ ہم نے اس سلسلے میں ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت کی جانب سے زرعی رہ نمائی سے استفادہ کیا۔ یہاں تک کہ میں نے گرم فضا اور ٹکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 25 نرسریاں بنا لیں"۔

سعودی استاد کے مطابق ان کا کھیت تمام سبزیاں پیدا کرتا ہے اور اس کی یومیہ پیداوار 600 کلو گرام تک پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "اب میں آم کے 400 پیڑ اور موتیے کے 800 پودے لگانے کا تجربہ کر رہا ہوں"۔

سعودی شہری نے بتایا کہ "میں نے اسلامی تعلیم کے معلم کے طور پر کام کیا مگر زراعت میرے آبا واجداد سے ورثے میں ملنے والا پیشہ ہے۔ میرے آبا واجداد نے 1388ہجری سے کنوئیں کھودے۔ وہ اس وقت مکئی اور گندم کی کاشت کیا کرتے تھے"۔