.

اردن:میڈیا میں شہزادہ حمزہ سے تحقیقات کے موادکی نشرواشاعت پر پابندی،اظہاررائے پرنہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے اٹارنی جنرل نے واضح کیا ہے کہ میڈیا پر سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ سے تحقیقات سے متعلق مواد کو شائع یا نشر کرنے پر پابندی عاید کی گئی ہے لیکن قانون کے مطابق اظہاررائے پر کوئی قدغن عاید نہیں کی گئی ہے۔

اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ٹویٹر اکاؤنٹ پربدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق شہزادہ حمزہ بن الحسین سے تحقیقات سے متعلق موضوعات اور مواد کی اشاعت پر پابندی عاید کی گئی ہے تاکہ اس سے متعلق رازافشا نہ ہوسکیں،اس کی ساکھ ، شواہد اور اس کے فریقوں سمیت ہر کسی کو تحفظ مہیا کیا جاسکے۔

اردن کے پراسیکیوٹر جنرل حسن العبداللات نے منگل کے روز شہزادہ حمزہ کی مبیّنہ ناکام بغاوت کی تحقیقات سے متعلق ہر قسم کے مواد کی نشرواشاعت پر پابندی عاید کردی تھی تاکہ جاری تحقیقات سے متعلق خفیہ معاملات کو صیغہ راز میں رکھاجاسکے۔

اردن کی سرکاری خبررساں ایجنس بطرا کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’’یہ پابندی تاحکم ثانی برقرار رہے گی۔اس میں آڈیو اور ویژول میڈیا اور سوشل میڈیا کی ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ تحقیقاتی عمل سے متعلق کسی بھی تصویر یا ویڈیو کلپس کی نشرواشاعت پر بھی پابندی ہوگی۔

اردن میں سکیورٹی حکام نے گذشتہ ہفتے کے روز سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ کو ملک میں گڑبڑ پھیلانے کی سازش کے الزام میں ان کے محل میں نظربند کردیا تھا اور شاہی دیوان کے سابق سربراہ اور سابق وزیرخزانہ باسم عوض اللہ سمیت بیس افراد کو گرفتارکرلیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ان افراد کی سرگرمیاں ملکی استحکام وسلامتی کے لیے خطرے کا موجب ہیں،اس لیے انھیں حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے خلاف اب تحقیقات کی جائے گی۔