.

کرنٹ لگنے سے بچی کی ہلاکت کے ذمہ دار چار سعودی سرکاری ملازمین کو قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر ابھا کی ایک فوج داری عدالت نے دو سال قبل جنى الشهری نامی بچی کی کرنٹ لگنے سے ہلاکت کے ذمہ دار چار سرکاری ملازمین کو قید کی سزا سنائی ہے۔

سعودی عرب کی المجاردہ بلدیہ کے چار ملازمین پر غفلت برتنے کا الزام عاید کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں 9 سالہ بچی جنی الشھری کی موت واقع ہوگئی تھی۔

پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ بلدیہ کے چار ملزمان پر انتظامی غفلت کا مظاہرہ کرنے اور اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں میں کوتاہی برتنے کا الزام ثابت ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ دو سال قبل شاہراہ الفن پر واقع پارک میں ایک بجلی کے کھمبے میں دوڑنے والی برقی رو کے باعث 9 سالہ بچی اس کو چھونے کے نتیجے میں فوت ہوگئی تھی۔ بچی کے والدین نے حکومت کی مدعیت میں مقامی بلدیہ کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

چند ماہ قبل کہ 9 سالہ علی الشھری دو سال قبل المجاردہ بلدیہ میں شاہراہ الفن پر واقع ایک پارک میں بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگئی تھی۔

الشہری کی ماں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2 ربیع الثانی کی طرف سے عدالت نے بلدیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان کے خاندان کو معاوضہ ادا کرے تاہم انتظامیہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ کیس بلدیہ کےانتظامی شعبے کو منتقل کردیا گیا ہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ پوری دنیا بھی اس کی بیٹی کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔

فوت ہونے ولی بچی جنیٰ کے چچا عبداللہ الشہری نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوا تھا کہ بچی کی موت روشنی کے ایک کھمبے میں کرنٹ آنے کے باعث واقع ہوئی تھی اور اس کی تمام تر ذمہ داری المجاردہ بلدیہ پر عاید ہوتی ہے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا تھا جب ایک پارک میں مملکت کے 88 ویں قومی دن کی ایک تقریب جاری تھی۔