.

سعودی عرب کا اردن کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کابینہ نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ مملکت مکمل طور پر اردن کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اس کے ساتھ پوری یک جہتی کا اظہار کرتی ہے۔

یہ موقف خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی صدارت میں منگل کے روز کابینہ کے ورچوئل اجلاس میں سامنے آیا۔

اجلاس کے آغاز میں شاہ سلمان کو گذشتہ دنوں کے دوران میں مملکت اور متعدد برادر اور دوست ممالک کے بیچ ہونے والی مشاورت اور بات چیت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پیش رفت کے علاوہ 'گرین مڈل ایسٹ' منصوبے کا خیر مقدم اور اس کے اہداف کی تکمیل پر کام کرنا شامل ہے۔

کابینہ نے سعودی ولی عہد اور عراقی وزیر اعظم کے درمیان ہونے والی سرکاری بات چیت کے نتائج پر بھی روسنی ڈالی۔

سعودی وزیر اطلاعات ڈاکٹر ماجد القصبی نے سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ایس پی اے" کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ سعودی کابینہ نے ایک بار پھر مصر اور سوڈان کے لیے مملکت کی معاونت کو باور کرایا۔

اسی طرح کابینہ نے شام اور اس کے عوام کے لیے امن و استحکام کی واپسی کے واسطے کی جانے والی تمام کوششوں کے حوالے سے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

کابینہ کے مطابق یمن کے مختلف صوبوں میں بجلی کے پاور اسٹیشنوں کو چلانے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے نئی پٹرولیم مصنوعات کا پیش کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ مملکت ،،، یمن اور اس کی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ ساتھ ہی وہ برادر یمنی عوام کے مصائب کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

کابینہ نے اجلاس میں رمضان مبارک کے دوران میں حرمین شریفین آنے والوں کے واسطے تمام تر خدمات اور حفاظتی تدابیر کا بھی جائزہ لیا۔ ان اقدامات کا مقصد اللہ کے مہمانوں کو بہترین ، محفوظ اور پر سکون ماحول فراہم کرنا ہے تا کہ وہ اپنی عبادت اور دیگر مناسک پوری راحت کے ساتھ ادا کر سکیں۔

کابینہ نے مقامی اور عالمی سطح پر کرونا وائرس کی صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس حوالے سے صحت عامہ کے تحفط اور اس وبائی مرض کی روک تھام کے واسطے متعلقہ حکام اور اداروں کی کوششوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔