.

ماہ صیام کی آمد، سعودی عرب میں بنیادی ضرورت کی اشیا وافر مقدار میں موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماہ صیام کے قریب آتے ہی سعودی عرب کی وزارت تجارت نے بتایا ہے کہ مملکت میں اشیائے خوردو نوش، اجناس اور دیگر بنیادی ضرورت اشیا کی کوئی قلت نہیں اور تمام ضروری اشیا کی وافر مقدار موجود ہے۔

وزارت تجارت کی طرف سے ملک بھر میں تجارتی مراکز کے دو ہزار سے زیادہ مانیٹرنگ ٹور کیے اور اس دوران مختلف علاقوں میں اشیائے خوردو نوش کے معیار اور مقدار کی معلومات حاصل کی گئی۔

وزات تجارت کے ترجمان عبدالرحمان الحسین العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مانیٹرنگ ٹور رمضان سیزن کی آمد کی مناسبت سے کیے گئے۔ ان دوروں کے چار بنیادی اہداف تھے۔ پہلا ہدف اشیائے خوردو نوش کی وافر مقدار کو یقینی بنانا تھا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں شہریوں کو بنیادی ضرورت کی اشیا کے حصول میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دوسرا ہدف اشیا کے معیار کو یقینی بنانا۔ ان کا کہنا تھا کہ مانیٹرنگ کے دوران بعض اسٹوروں پر ملاوٹ زدہ اور غیر معیاری مصنوعات پائی گئیں جن پر ان اسٹور مالکان کو جرمانہ کیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ مانیٹرنگ دوروں کا تیسرا مقصد صارفین اور شہریوں کے لیے دی گئی پروموشل آفرز اور اشیا پر ڈسکاونٹ کو چیک کرنا ہے کیونکہ ماہ صیام کے دوران ملبوسات اور دیگر بنیادی ضرورت کی 10 سے 15 ملین اشیا پر رعایت دی جاتی ہے۔

وزارت تجارت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دورے کا چوتھا مقصد آن لائن مانیٹرنگ پروگرام کے ذریعے اشیا کے اصل نرخوں کی تصدیق کرنا تھی۔ وزارت تجارت نے آن لائن مانیٹرنگ پروگرام کے ذریعے 200 اشیا کی قیمتیں چیک کی گئیں۔

عبدالرحمان الحسین کا کہنا تھا کہ وزارت تجارت نے دو سے تین ہزار ڈسکاونٹ پرمٹ جاری کیے ہیں۔ ہرماہ ڈسکاونٹ پیکج میں شامل اشیا میں اضافہ کیا جاتا ہے اور بعض اشیا پر دی گئی سبسڈی ختم کی جاتی ہے۔ ماہ صیام کے موقعے پر 15ملین اشیا پر سبسڈی دی جاتی ہے۔