.

عراقی فوج نے امریکی فوجی اڈے پر 24 راکٹوں سے حملے کی کوشش ناکام بنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں متعین امریکی سفیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بغداد کے گرین زون میں ہونے والے مسلسل 'بے قابو' حملے عراق کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

امریکی سفیر کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف جمعرات کو عراقی سیکیورٹی فورسز نے الانبار میں عین الاسد فوجی اڈے کے قریب سے ایک گاڑی پر لادے 24 راکٹ قبضے میں لے کرامریکی فوجی اڈے پر حملے کی خطرناک سازش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

عراقی فوج کے میڈیا سیل کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قبضے میں لیے گئے راکٹوں کو فوری طور پر ناکارہ بنا دیا گیا۔ انہیں عین الاسد فوجی اڈے پر حملے کے لیے لایا گیا تھا۔

عین الاسد فوجی اڈے پر جہاں عراقی فوج کے ساتھ امریکی فوجی بھی تعینات ہیں، پہلے بھی متعدد بار شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

الانبار میں 24 راکٹ ایک ایسے وقت میں پکڑے گئے ہیں جب کل جمعرات کو امریکا اور عراق کے درمیان تزویراتی مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہوا۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس ملیشیا کے سربراہ اسماعیل قآنی عراق میں ایرانی ملیشیائوں کی صفوں میں اتحاد اور امریکی مفادات پر حملوں میں ان کی مدد کے لیے بغداد پہنچے تھے۔

عراق سیکیورٹی حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیلڈ مانیٹرنگ اور انٹیلی جنس کوششوں میں تیزی کےنتیجے میں ساتویں ڈویژن کے بریگیڈ 29 کی ایک پٹرولنگ ٹیم کو ایک ھینو گاڑی ھیت البغدادی روڈ پر عین الاسد فوجی اڈے سے کچھ فاصلے پر کھڑی دکھائی دی۔ گاڑی کے قریب جانے اور اس کی تلاشی لینے سے پتا چلا کہ اس میں 24 راکٹ اور فوجی کپڑے لادے گئے ہیں۔
ان راکٹوں کو قبضے میں لینے کے بعد اس حوالے سے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ راکٹوں سے لدی یہ گاڑی کس نے وہاں پر کھڑی کی تھی۔