.
ایران جوہری معاہدہ

جوہری معاہدے میں تبدیلیاں نہ کی گئیں تو ایران ایٹم بم بنا سکتا ہے: شہزادہ ترکی الفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی جنرل انٹیلی جنس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان طے پائے جوہری معاہدے کی اصلاح نہ کی گئی تو یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیارں کے حصول اور ایٹم بم کی تیاری سے نہیں روک سکتا۔

شہزادہ ترکی الفیصل نے ان خیالات کا اظہار بحرین کے اخبار البلاد فورم کے زیر اہتمام ایک ورچوئل سیشن میں گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو جن تغیرات اور پولرائزیشن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس میں اسٹریٹجک چیلنجز سب سے اوپر ہیں جنہو‌ں نے قیادت اور عوام کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار اور کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا ایک مشکل مرحلے سے گذر رہی ہے۔ اس کے نتائج کی پیش گوئی کرنا آسان نہیں ہے۔

الفیصل جو اب کنگ فیصل سینٹر برائے ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین ہیں نے مزید کہا کہ عرب خطے کی صورتحال خطےکے متصادم مفادات کے ٹکراو سے متاثر ہوتی ہے۔ انہوں‌ نے خبردار کیا کہ اس خطے کے دروازے افراتفری اور بیرونی مداخلت کے لیے کھلے ہیں۔ انہیں بند کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سبق حاصل ہے کہ عراق میں کیا ہوا اور عراق کو کوڑیوں کے عوض ایران کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ اسی طرح شام میں بیرونی مداخلت نے ملک تباہ کر ڈالا۔

شہزادہ ترکی نے وضاحت کی کہ "خلیجی خطے کی سلامتی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے نہ کہ صرف ایک علاقائی مسئلہ ہےکیونکہ یہ خطہ اسٹریٹجک اور مالی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے متعدد جنگوں کے نتائج سے بچایا گیا ہے لیکن وہ اس پر بھروسہ نہیں کرسکتے ہیں۔ بلکہ اسے تمام خرابیوں کو دور کرنا ہوگا اور تمام منظرناموں خصوصا خطرے کو روکنے کی تیاری کرنا ہوگی۔ ایران اپنی مداخلت اور اپنے فرقہ وارانہ نظریات کے پھیلاؤ اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کے ذریعہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت اب ایک حقیقی خطرہ ہے کیونکہ اس کی پالیسی کو قریب سے چالیس سال سے سمجھنے کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ہم ایران سے دشمنی نہیں رکھتے ہیں اور ہم نہیں چاہتے ہیں کہ اس کے عوام کو کوئی نقصان پہنچے لیکن ایک توازن حاصل کرنا ضروری ہے۔

شہزادہ ترکی الفیصل نے خلیج میں سلامتی اور استحکام کے عوامل کے لیے عراق کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کو ایران کے تسلط سے نجات دلانا چاہئیے۔ ایران نہ صرف عراق میں بلکہ شام ، لبنان اور یمن میں تخریبی کردار کر رہا ہے اور اس سے خلیج کی سلامتی کو خطرہ ہے۔

ویانا میں جوہری معاہدے کے بارے میں ایران اور رکن ممالک کی مذاکرات اور اس میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی اور عرب ممالک کو شامل کرنے کی ضرورت کے بارے میں الفیصل نے کہ ویانا مذاکرات ایران کے خطرے سے متعلق ہمارے خدشات کو ختم نہیں کریں گے۔ ایران کا جوہری پروگرام اور خلیجی ریاستوں کو ایران سے درپیش خطرات بات چیت کا مرکزی حصہ ہونا ضروری ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور اس کی علاقائی مداخلت کے بارے میں خدشات کےباوجود خلیجی ممالک نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی طرف سے طے پائے معاہدے کی حمایت کی۔ خلیجی ممالک کو توقع تھی کہ معاہدے کے بعد ایران باز آ جائے گا اور خطے میں ایران یی تخریبی سرگرمیوں کو روک دے گا مگر اس کے برعکس ہوا ہے۔