.

رفسنجانی کی بیٹی نے ویانا میں ایرانی بات چیت کے طریقے کو مضحکہ خیز قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی اور اصلاح پسند کارکن فائزہ ہاشمی نے ایرانی جوہری معاہدے کو فعال بنانے کے مقصد سے ویانا م یں ہونے والی بات چیت کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی ہے۔ بات چیت کا آغاز منگل کے روز ہوا اور اس حوالے سے ایران نے امریکی وفد کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔

فائزہ نے ایرانی اور امریکی وفود کے دو علاحدہ ہوٹلوں میں بیٹھنے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ اس کا مقصد یورپی یونین کی وساطت سے بالواسطہ مذاکرات کا اجرا ہے۔

ایرانی وفد یہ شرط عائد کر چکا ہے جوہری معاہدے کے حوالے سے براہ راست مذاکرات سے قبل تہران پر سے پابندیاں اٹھانا لازم ہے۔

فائزہ ہاشمی کا یہ موقف "انصاف نیوز" ویب سائٹ کی جانب سے یوٹیوب چینل پر نشر کیے گئے خصوصی انٹرویو میں سامنے آیا۔

فائزہ کے مطابق ایران اور مغربی ممالک کے درمیان مذاکرات ایک لطیفے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ایرانی وفود کا دو علاحدہ ہوٹلوں میں بیٹھنا اور یورپی یونین کے وساطت کاروں کا فریقین کا موقف سننے کے لیے ادھر سے اُدھر جانا ،،، یہ سب ایک مذاق ہے۔ ہم عراق اور افغانستان اور ہزاروں دیگر جگہاؤں کی خاطر امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کر چکے ہیں۔ ہمیں اپنے حوالے سے بھی امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں۔ یہ پالیسیاں غلط ہیں"۔

فائزہ ہاشمی نے ایران کے اپنے پڑوسی عرب ممالک بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پر بھی نکتہ چینی کی۔ فائزہ کے مطابق ان کے والد ہاشمی رفسنجانی نے خمینی کو بھیجے گئے خط میں دو مطالبات کیے تھے۔ ان میں پہلا عراق کے ساتھ جنگ کا خاتمہ اور دوسرا امریکا کے ساتھ تعلقات تھا۔

فائزہ ہاشمی نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ البتہ انہوں نے باور کرایا کہ شوری نگہبان کی جانب سے ان کی نامزدگی کو مسترد کر دیا جائے گا۔ اسی طرح فائزہ نے کہا کہ وہ چار دہائیوں سے امریکا اور ایران کے درمیان معلق معاملات کے حل کے واسطے واشنگٹن کے ساتھ براہ راست بات چیت پر تیار ہیں۔