.

مصر نے ترکی سے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے مذاکرات کیوں معطل کیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے ترکی سے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے مذاکرات عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔العربیہ کے ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ مصر نے ترکی کے ساتھ تاحکم ثانی سفارتی بات چیت کے علاوہ سکیورٹی روابط بھی منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ترکی نے مصر کے مطالبے پر لیبیا سے ابھی تک اپنی حامی ملیشیاؤں کو واپس نہیں بلایا ہے اوران کے انخلا میں سست روی اختیار کی ہے۔مصر نے یہ مطالبہ پوراہونے تک ترکی کے ساتھ ہر طرح کے ابلاغی روابط منقطع کردیے ہیں۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق ترکی نے لیبیا سے اپنے فوجی مشیروں اور فوجیوں کے انخلا کے لیے مزید وقت مانگا ہے جبکہ مصر انھیں فوری طور پر جنگ زدہ ملک سے واپس بلانے کا مطالبہ کررہا ہے۔اس کے علاوہ وہ الاخوان المسلموں کے ترکی میں پناہ گزین قائدین کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کررہا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی نے حال ہی میں اپنی حدود میں الاخوان المسلمون کی سرگرمیوں پر پابندیاں عاید کردی ہیں اور اس کے ٹیلی ویژن چینل کی نشریات بھی بند کردی ہیں لیکن مصر اس سے مستقل بنیادوں پر مزید اقدامات کا مطالبہ کررہا ہے۔اس نے الاخوان کے دو لیڈروں یحییٰ موسیٰ اورعلاء السماحی کو بھی حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مصری وزیرخارجہ سامح شکری قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ ’’ترکی کو معمول کے دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کے لیے مصر کے اصولوں اور اہداف کے مطابق اقدامات کرنے چاہییں اور پھرمعمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے اس کو بنیادی کام کرنا چاہیے۔‘‘

ترکی کے بعض اعلیٰ عہدے داروں نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی روابط بحال ہوگئے ہیں اورانقرہ دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بھی ان روابط کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ ’’روابط اعلیٰ سطح پر تو نہیں ہوئے بلکہ اعلیٰ سے نچلی سطح پر استوار ہوئے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ ترکی اور مصر کے درمیان 2013ء میں الاخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمدمرسی کی حکومت کی معزولی کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ترک صدر طیب ایردوآن کی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (آق) مصرکی قدیم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کی اتحادی اور مددگاررہی ہے۔

مصری صدرعبدالفتاح السیسی کی حکومت نے الاخوان المسلمون کوصدر مرسی کی معزولی کے بعد دہشت گرد قراردے دیا تھا اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی تھی۔مصری سکیورٹی فورسز نے الاخوان کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا تھا۔ان مخالفانہ کارروائیوں کے بعد الاخوان کے بہت سے لیڈر اور کارکنان ملک سے نقل مکانی کرکے ترکی چلے گئے تھے اور انھوں نے وہاں تب سے سیاسی پناہ لے رکھی ہے۔

مصر اور ترکی کے درمیان آبی حدود اور آف شور قدرتی وسائل پر تنازعات کے علاوہ لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ دونوں ملک لیبیا میں متحارب گروپوں کی حمایت کررہے ہیں۔مصر لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے جنرل خلیفہ حفتر اور ان کے زیر قیادت لیبی قومی فوج کی حمایت کررہا ہے جبکہ ترکی طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کا حامی ہے۔