.

امریکا آہنی عزم سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے: وزیر دفاع آسٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اسرائیل کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا آہنی عزم سے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

لائیڈ آسٹن پینٹاگان کا سربراہ بننے کے بعد اسرائیل کا پہلا دورہ کررہے ہیں۔انھوں نے اتوار کو اسرائیلی وزیردفاع بینی گینز سے تل ابیب میں دوطرفہ تعلقات بالخصوص دفاعی شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

بعد میں آسٹن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’انھوں نے اسرائیل کے بارے میں امریکا کے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بھرپورطریقے سے اس کے ساتھ کھڑا ہے‘‘ لیکن انھوں نے اپنی گفتگو میں ایران کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

اس موقع پر بینی گینز نے کہا کہ ’’ان کا ملک امریکا کو صرف ایران ہی نہیں بلکہ ہر طرح کے درپیش خطرات کے مقابلے میں ایک مکمل شراکت دار سمجھتا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’آج کا تہران عالمی سلامتی ، مشرقِ اوسط اور ریاست اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی خطرے کا موجب ہے۔ہم اپنے امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کراس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی نئے سمجھوتے سے دنیا اور امریکا کے وسیع تر مفادات کا تحفظ ہو،ہمارے خطے میں خطرناک ہتھیاروں کی دوڑ کا خاتمہ ہو اور ریاست اسرائیل کا تحفظ ہو۔‘‘

لائیڈ آسٹن خطے کی سیاسی، عسکری اور جغرافیائی صورت حال سے موجودہ بائیڈن انتظامیہ کے کسی بھی دوسرے عہدے سے زیادہ آگاہ ہیں کیونکہ وہ عراق میں چار سال تک امریکی افواج کے کمانڈر رہے تھے۔اس کے علاوہ بھی وہ خطے میں فوجی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

وہ ایسے وقت میں اسرائیل کا یہ دورہ کررہے ہیں جب وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے زیرقیادت نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے۔ صہیونی ریاست میں گذشتہ دوسال میں چار پارلیمانی انتخابات منعقد ہوچکے ہیں اور مارچ میں منعقدہ انتخابات میں بھی کوئی جماعت حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی ہے۔

اسرائیلی صدرریووین رولین نے گذشتہ ہفتے نیتن یاہوکو ایک مرتبہ پھر وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔اگر وہ 28 روز میں نئی کابینہ کی تشکیل میں ناکام رہتے ہیں تو پھر اسرائیلی صدر دوبارہ پارلیمان سے رجوع کریں اور جس لیڈر کو زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہوگی،اس کو نئی کابینہ بنانے کی دعوت دیں گے۔

وزیردفاع کے اس دورے کا ایک اور مقصد اسرائیل کی ایران سے جوہری سمجھوتے میں امریکا کی دوبارہ شمولیت سے متعلق تشویش کو دور کرنا ہے۔اسرائیل اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کررہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ جوہری سمجھوتا ایران کو اس کے حساس نوعیت کے جوہری کام پر پیش رفت سے بازرکھنے میں ناکام رہا ہے۔

وزیراعظم نیتن یاہو ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے ذریعے ایسے ایٹمی ہتھیارتیار کرنا چاہتا ہے جنھیں بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ چلایا جاسکے گا جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اس سے صرف بجلی پیدا کرنا چاہتا ہے۔