.

ایران : نطنز کی تنصیب میں پراسرار حادثے کے بعد تحقیقات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے ترجمان بہروز کمالوندی کا کہنا ہے کہ ملک کے وسطی علاقے میں نطنز کی جوہری تنصیب میں بجلی کی تقسیم کے نیٹ ورک کو آج اتوار کی صبح حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔

کمالوندی نے "فارس" نیوز ایجنسی کو دیے گئے خصوصی بیان میں بتایا کہ یہ حادثہ نطنز میں یورینیم افزودہ کرنے والے حمدی روشن کمپاؤنڈ میں اتوار کو علی الصبح پیش آیا۔ تاہم اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے متاثر ہونے یا تابکاری آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ترجمان کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ایران نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے زیادہ تیزی سے یورینیم افزودہ کرنے والے سینٹری فیوجز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ویانا میں جاری جوہری بات چیت کا عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ ایرانی جوہری معاہدے کے تحت اس نوعیت کے سینٹری فوجز کا استعمال ممنوع ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن پر براہ راست دکھائی جانے والی سرگرمی میں ایرانی صدر حسن روحانی نے سرکاری طور پر نطنز جوہری تنصیب میں IR6 نوعیت کے 164 سینٹری فیوجز کا افتتاح کیا۔

ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے انجینئروں کا کہنا ہے کہ IR6 اور IR9 سینٹری فیوجز IR1 کے مقابلے میں بالترتیب دس اور پچاس گنا زیادہ طاقت ور ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی ایران کی حساس تنصیبات میں کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ایرانی ذمے داران کی جانب سے ان "حادثات" کے پیچھے موجود عناصر کے بارے میں کبھی صراحتا نہیں بتایا گیا۔

تاہم ایرانی حکام اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ بعض ممالک بالخصوص اسرائیل ان تنصیبات کو لپیٹ میں لینے والے سائبر حملوں کے ذمے دار ہیں۔ ان واقعات میں نمایاں ترین جولائی 2020ء میں نطنز کی تنصیب میں ہونے والا دھماکا تھا۔