.

ایران کا امریکی بوئینگ کمپنی سے طیاروں کی خریداری کے امکان کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی فضائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو علی رضا برخور نے امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئینگ کو ایک خط ارسال کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "کمپنی ایران کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کرے"۔ ساتھ یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ ایران امریکی کمپنی سے طیارے خرید سکتا ہے۔ یہ بات برکور نے اتوار کے روز ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کو دیے گئے بیان میں بتائی۔

اس سے قبل ایران میں سڑکوں اور شہری ترقی کے وزیر محمد السامی یونس نے گذشتہ روز کہا تھا کہ "امریکی بوئنگ کمپنی سے طیاروں کی خریداری کے سمجھوتوں کی قانونی طور پر پیروی کی جا سکتی ہے"۔ مئی 2018ء میں ایرانی جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے بعد ان معاہدوں کو معطل کر دیا گیا تھا۔

ایرانی قومی فضائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق "بوئنگ کمپنی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اسے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو ایرانی عوام کو دستخط شدہ سمجھوتوں کے تحت ان طیاروں سے مستفید ہونے کا موقع دیں ، یہ ہمارا ثابت شدہ حق ہے"۔

ایران نے 2015ء میں جوہری معاہدے پر دستخط اور تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی منسوخی کے بعد بوئنگ کمپنی سے 80 بوئنگ 737 اور بوئنگ 777 طیارے خریدنے کا سمجھوتا طے کیا تھا۔ ایران نے ان طیاروں کی خریداری کے لیے امریکی وزارت خزانہ کے زیر انتظام بیرونی سرمایہ کاری کے کنٹرول بیورو سے منظوری بھی حاصل کر لی تھی۔

یاد رہے کہ ایران کو اپنے شہری فضائی بیڑے کو جدید بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت بیڑے میں 150 کے قریب طیارے ہیں جو اڑان کے لیے موزوں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر طیارے 1979ء کے انقلاب سے پہلے خریدے گئے تھے۔