.

حزب اللہ کی متوازی معیشت؛سستی اشیاء کی فروخت کے لیےالسجاد کوآپریٹوزکارڈ کااجراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا نے باضابطہ طور پرالسجاد کے نام سے سپرمارکیٹوں کی ایک چین شروع کی ہے اور اسی نام سے ایک رعایتی کارڈ کا اجراء کیا ہے۔اس کے ذریعے ملیشیا کے حامیوں کو کم لاگت میں اشیائے صرف مہیّا کی جائیں گی۔ناقدین کے مطابق حزب اللہ کے اس منصوبہ کامقصد اپنی ایک متوازی معیشت کو ترقی دینا ہے۔

حزب اللہ نے دارالحکومت بیروت کے ہوائی اڈے کے نزدیک السجاد کوآپریٹوز کی پہلی شاخ کھولی ہے۔اس کے حامیوں نے اس کا بھرپوراندازمیں خیرمقدم کیا ہے اور انھوں نے اس کی افتتاحی تقریب کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شئیر کی ہیں۔

لبنان کو اس وقت بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے اور اس کے بیشتر شہری نان جویں کو ترس رہے ہیں۔عالمی بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق مالیاتی بحران کی وجہ سے ملک کی نصف سے زیادہ آبادی غُربت کی لکیر سے نیچے جاچکی ہے۔

اس وقت لبنان میں کوئی فعال حکومت نہ ہونے اور کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے یہ معاشی بحران مزید ابتر ہوا ہے اور مستقبل قریب میں اس کے خاتمے کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔لبنانی کرنسی کی قیمت کئی گنا گرچکی ہے۔اس کے سبب افراط زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

حزب اللہ کے ناقدین ان حالات میں سپرمارکیٹ شروع کرنے کے اقدام پر کڑی نکتہ چینی کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان مارکیٹوں کے ذریعے وہ اپنے حامیوں کو تو فائدہ پہنچا رہی ہے مگر اس کو اپنی پارلیمانی اکثریت اور حزب اللہ نواز حکومت کے ذریعے تمام لبنانیوں کے لیے امدادی منصوبے پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

حزب اللہ کے حامیوں کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں خوراک کی اشیاء سے بھری شیلفوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔حزب اللہ نے ان اشیاء کی خریداری کے لیے اپنے ہزاروں حامیوں میں السجاد کارڈ تقسیم کیے ہیں اور وہ گاہکوں کو ان خریداری مراکز میں آنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حزب اللہ اس طرح اپنیی کاروباری دنیا کو چلانے کے لیے نقد رقوم اکٹھا کرنا چاہتی ہے۔

Hezbollah Card
Hezbollah Card

السجاد کارڈ حزب اللہ کے ایک بڑے معاشی منصوبہ کا حصہ ہے۔اس کے ذریعے وہ اپنے سماجی ماحول میں لبنانی حکومت کے زرتلافی پروگرام کے مقابلے میں بھی کم قیمت پر اشیاء مہیا کرنا چاہتی ہے۔واضح رہے کہ لبنانی حکومت بیرون ملک سے بہت سی اشیائے ضروریہ درآمد کرکے شہریوں کو زرتلافی پر مہیا کرتی ہے۔

لبنان کے ایک مقامی میڈیا پروفیشنل فیصل عبدالستار نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا ہے کہ اس وقت حزب اللہ کے کارڈ شام کے ساتھ واقع علاقوں میں استعمال کیے جارہے ہیں۔

لبنانی ملیشیا نے السجاد کوآپریٹو کے آغاز سے قبل ایک اشتہاری مہم برپا کی تھی اور بیروت کے جنوبی علاقے میں ایرانی مصنوعات کی تشہیر کے لیے بل بورڈز لگائے ہیں۔ان میں مغرب سے درآمدہ مہنگی مصنوعات کے بجائے کم قیمت ایرانی مصنوعات خرید کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔واضح رہے کہ لبنانی لیرا کی قدر میں کمی کی وجہ سے مغربی ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیائے ضرورت کی قیمت میں 10 گنا تک اضافہ ہوچکا ہے۔حزب اللہ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاکر ایرانی مصنوعات کو لبنانی مارکیٹ میں متعارف کرارہی ہے۔