.

اردن : فساد کا کیس اٹارنی جنرل کے سامنے پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں متعلقہ حکام نے ملک میں فساد اور بد امنی کا کیس اٹارنی جنرل کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اردن میں وسیع تنازع پیدا کر دینے والے اس معاملے کے ضمن میں گذشتہ ہفتے درجنوں ذمے داران کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

باخبر ذرائع نے پیر کے روز سرکاری چینل "المملکہ" کو واضح کیا کہ فساد اور بد امنی کا کیس اٹارنی جنرل کو پیش کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کیس میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی تقاضوں اور تحقیقات کو مکمل کرنا ہے۔

سرکاری چینل کے مطابق سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ کا معاملہ شاہی ہاشمی خاندان کے دائرہ کار کے تحت حل کیا جائے گا۔

اس سے قبل اتوار کی شام شہزادہ حمزہ بن الحسین اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ نظر آئے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ہاشمی شاہی خاندان کے متعدد شہزادے بھی تھے۔ یہ منظر اردن کی ریاست کے قیام کے سو سال پورے ہونے کے حوالے سے شاہی قبرستان کے دورے کے دوران سامنے آیا۔

ایک ہفتہ قبل اردن کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سیکورٹی اداروں نے شہزادہ حمزہ کی ایسی سرگرمیوں کا پتہ چلایا جن کا مقصد اردن کو نشانہ بنانا تھا۔ اس کے نتیجے میں دسیوں ذمے داران کو حراست میں لے لیا گیا جب کہ شہزادہ حمزہ کا معاملہ شہزادہ حسن بن طلال کو سونپ دیا گیا جو شاہ عبداللہ دوم کے چچا ہیں۔

چند روز قبل اردن کے فرماں روا نے عوام کے نام ایک پیغام میں باور کرایا تھا کہ فساد کا سر کچل دیا گیا ہے اور اب ملک محفوظ اور مستحکم ہے۔

دوسری جانب شہزادہ حمزہ نے گذشتہ پیر کے روز ایک پیغام پر دستخط کیے تھے جس میں انہوں نے اردن کے فرماں روا کے لیے اپنی وفا داری کو باور کرایا۔