.

ایران، مشرق اوسط کا سب بڑا خطرا ہے: اسرائیلی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے دہشت گردی کا سرپرست قرار دیا ہے۔ وہ سوموار کے روز اسرائیل کا دورہ کرنے والے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ہمراہ تل ابیب میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

نیتن یاہو نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ایران مشرق وسطیٰ کے لیے بہت بڑا خطرا ہے۔ تہران نے کبھی بھی نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کی کوشش ترک نہیں کی۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسرائیل، ایران کو کبھی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ان کے بقول اسرائیل ایرانی جارحیت کے خلاف ’’اپنے دفاع کا حق‘‘ استعمال کرتا رہے گا۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اسرائیل کی سکیورٹی اور اس کی خطے میں فوجی برتری کی ضمانت دیتے ہیں۔‘‘

اعلیٰ امریکی عہدیدار کا پہلا دورہ

یاد رہے کہ لائیڈ آسٹن اتوار کے روز اسرائیل کے دورے پر پہنچے۔ جو بائیڈن حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی بھی امریکی عہدیدار کا یہ پہلا دورہ اسرائیل ہے جس میں وہ امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی سے متعلق تبادلہ خیال کرنے جا رہے ہیں۔ اسرائیل اس موقف کی مخالفت کرتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع کا دورہ اسرائیل واشنگٹن کے اس اعلان کے چند دن بعد ہو رہا ہے جس میں ایران کے ساتھ معطل کردہ جوہری معاہدے کی بحالی کے ضمن میں ’’سنجیدہ‘‘ نوعیت کی تجاویز پیش کی گئی ہیں، اسرائیل اس تجاویز کی مخالفت کرتا ہے۔

یہ نیوز کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران کی نطنز میں واقع جوہری تنصیبات کو اتوار کی صبح حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حملے کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی۔ ایران نے اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

لائیڈ آسٹن پینٹاگان کا سربراہ بننے کے بعد اسرائیل کا پہلا دورہ کررہے ہیں۔انھوں نے اتوار کو اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینز سے تل ابیب میں دوطرفہ تعلقات بالخصوص دفاعی شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

بعد میں آسٹن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’انھوں نے اسرائیل کے بارے میں امریکا کے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بھرپور طریقے سے اس کے ساتھ کھڑا ہے‘‘ لیکن انھوں نے اپنی گفتگو میں ایران کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

اس موقع پر بینی گینز نے کہا کہ ’’ان کا ملک امریکا کو صرف ایران ہی نہیں بلکہ ہر طرح کے درپیش خطرات کے مقابلے میں ایک مکمل شراکت دار سمجھتا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’آج کا تہران عالمی سلامتی، مشرقِ اوسط اور ریاست اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی خطرے کا موجب ہے۔ہم اپنے امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کراس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی نئے سمجھوتے سے دنیا اور امریکا کے وسیع تر مفادات کا تحفظ ہو،ہمارے خطے میں خطرناک ہتھیاروں کی دوڑ کا خاتمہ ہو اور ریاست اسرائیل کا تحفظ ہو۔‘‘