.
یمن اور حوثی

حوثیوں کی حراست میں سزائے موت کےتحت قید صحافیوں کی زندگیاں بچانے کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے عقوبت خانوں میں پابند سلاسل سزائے موت کا سامنا کرنےوالے صحافیوں کی زندگیاں بچانے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

صنعا اور دوسرے شہروں میں حوثیوں کی جیلوں میں قید 4 صحافیوں اور دانشوروں کو دہشت گرد ملیشیا کے خلاف آواز اٹھانے پر سزائےموت سنائی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق زیرحراست صحافیوں کے اہل خانہ، صحافتی برادری اور دوسرے شہریوں کی طرف سے حوثیوں کی جیلوں میں قید صحافیوں کی رہائی کے لیے عالمی برادری سے کردار ادا کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کی قید میں سزائےموت کا سامنا کرنے والے صحافیوں کو فوری رہا کریں۔ اس مطالبے میں یمن کی صحافتی برادری بھی شامل ہے۔

برطانوی اخبار'گارجئین' کے مطابق حوثی ملیشیا کئی صحافیوں اور دانشوروں کو'دشمن کے ساتھ تعاون' کے الزام میں قید میں ڈال رکھا ہے جہاں ان پر بدترین تشدد بھی کیا جا رہا ہے۔

صحافی عبدالخالق عمران، اکرم الولیدی، حارث حامد اور توفیق المنصوری کو چھ دوسرے صحافیوں کے ساتھ 2015ء کو حراست میں لیا تھا۔

دیگر چھ کو رہا کردیا گیا جو اب ملک چھوڑ کر مصر جا چکے ہیں جب کہ مذکورہ چار صحافیوں کو دشمن کے ساتھ ساز باز کرنے اور تعاون کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

یمنی صحافیوں نے برطانوی اخبار کوایک مکتوب لکھا ہےجس میں انہوں نے کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے صحافیوں کو قید تنہائی، تشدد اور انہیں‌بھوکا رکھنے جیسے مکروہ اور غیرانسانی حربوں کا سامنا ہے۔