.

اجازت نامے کے بغیر کسی کو مسجد حرام پہنچنے نہیں دیا جائے گا : عمرہ سیکورٹی فورس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ میں عمرہ سیکورٹی فورسز کی کمان کے اعلان کے مطابق رمضان مبارک میں معتمرین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے متعین کردہ شرائط کی منظوری دے دی گئی ہے۔

عمرہ سیکورٹی فورس کے نائب کمانڈر میجر جنرل محمد الاحمدی کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس ہم نے بڑے پیمانے پر کامیابی کو یقینی بنایا تھا۔ انہوں نے مسجد حرام کے لیے سیکورٹی منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اجازت نامے کے بغیر کسی شخص کو بھی حرم مکی پہنچنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ساتھ ہی سیکورٹی اور ٹریفک سیفٹی کی سطح کو بھی بلند کیا گیا ہے۔

سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے اور سیکورٹی کی بھاری نفری کی موجودگی کے پیش نظر معتمرین اور نمازیوں کے راستے متعین کر دیے گئے ہیں۔

عمرہ سیکورٹی فورس نے معتمرین کے حوالے سے کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں خصوصی حفاظتی اقدامات کے نفاذ کو سخت کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی بھی شخص اجازت نامے کے بغیر عمرہ کرتے ہوئے یا مسجد حرام میں داخل ہوتے ہوئے پکڑا گیا تو اس پر مالی جرمانہ بھی عائد ہو گا۔

اس سے قبل سعودی وزارت حج و عمرہ نے دو موبائل فون ایپلی کیشنوں (اعتمرنا) اور (توكلنا) کے جدید ورژنوں کا اعلان کیا تھا۔ ان دونوں ایپلی کیشنوں کے ذریعے مملکت کے شہری اور غیر ملکی مقیمین رمضان مبارک کے دوران میں عمرہ ، زیارت اور نماز کے اجازت ناموں کے اجرا کی درخواست دے سکتے ہیں۔

وزارت حج و عمرہ کے ذمے دار ذرائع نے ایک ہفتہ قبل مسجد حرام میں عملیاتی قوت کو بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ درج ذیل ضوابط کے مطابق تمام احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر کا بھی پابند بنایا گیا ہے :

1 ۔ یکم رمضان 1442 ہجری سے عمرے کی ادائیگی ، مسجد حرام میں نمازوں اور مسجد نبوی کی زیارت کے لیے اجازت نامے پیش کیے جائیں گے۔ اجازت نامے ان افراد کے لیے جاری ہوں گے جو (توكلنا) ایپلی کیشن کے مطابق کرونا ویکسین کی دو خوراکیں حاصل کر چکے ہیں یا پہلی ویکسین حاصل کرنے کے بعد 14 روز گزار چکے ہیں یا پھر کرونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

2 ۔ عمرے، نماز اور زیارت کے اجازت ناموں کی بکنگ (اعتمرنا) اور (توكلنا) ایپلی کیشنوں کے ذریعے ہو گی۔ یہ بکنگ دستیاب اوقات اور زائر کی خواہش کی مناسبت سے ہو گی۔

3 ۔ اجازت ناموں کا پیش کیا جانا اور ان کے استعمال کی مدت کا تعین (توکلنا) ایپلی کیشن کے ذریعے عمل میں آئے گا۔