.

لبنان اور سعودی عرب میں دو طرفہ تجارتی حجم 60 کروڑ ڈالر سے متجاوز ہے: لبنانی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں متعین لبنان کے سفیر ڈاکٹر فوزی کبارہ نے بتایا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم 60 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران سعودی عرب اور لبنان کے درمیان تجارتی معاہدوں اور تجارتی حجم میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات کے بعد دوسرا بڑا برآمد کندہ ہے جو سالانہ 250 ملین ڈالر کا سامان برآمد کرتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے لبنانی سفیر کا کا کہنا تھا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز دونوں ملکوں کے سیاسی منظر نامے میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ ان کے لبنانی اور سعودی اقوام کے درمیان بھائی چارے پر مبنی تعلقات سے متعلق الفاظ تاریخ میں رقم کیے جائیں گے جن میں انہوں‌نے کہا ہے کہ 'لبنان کے عوام میرے دل میں بستے ہیں اور لبنان میرے وجدان میں ہے'۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر کبارہ نے کہا کہ سعودی عرب اور لبنان کے درمیان تعلقات بگاڑنے کی باتیں حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں۔لبنان میں اس وقت باقاعدہ حکومت قائم نہیں۔ اس کے علاوہ کرونا کی وبا نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری سیاسی وفود کی آمد و رفت میں رکاوٹ کھڑی کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فوزی کبارہ کا کہنا تھا کہ عبوری وزیراعظم سعد الحریری نے سعودے عرب کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے 22 معاہدوں کی تیاری شروع کی ہے۔

کرونا وبا کے دنوں‌میں سعودی عرب کی طرف سے لبنانی عوام کےلیے فراہم کی جانے والی سعودی امداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے لبنانی سفیر کا کہنا تھاکہ انسانی بنیادوں پر سعودی عرب نے شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے ذریعے لبنانی عوام کی بھرپور مدد کی ہے۔ وبا کے دنوں میں سعودی عرب میں 60 ٹن خوراک، چالیس ٹن رہائش کا سامان اور ماہ صیام کے موقعے پر لبنان میں سات ہزار خاندانوں کے لیے امداد فراہم کی گئی ہے۔