.

صنعاء : لڑائی کے محاذوں پر جانے سے انکار پر حوثیوں کے ہاتھوں ڈاکٹروں کی گرفتاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صنعاء میں طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے الثورہ جنرل ہسپتال اور دیگر سرکاری شفا خانوں میں کام کرنے والے تربیت یافتہ طبی عملے کو اغوا کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ یہ اقدام مذکورہ ڈاکٹروں کو لڑائی کے محاذوں پر کام کرنے کے لیے قائل کرنے میں ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے۔ حوثی ملیشیا چاہتی ہے کہ یہ ڈاکٹر لڑائی میں زخمی ہونے والے زخمی جنگجوؤں کا علاج کریں۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ چند روز میں ملیشیا کے مسلح ارکان نے صنعاء میں مختلف ہسپتالوں اور شفاخانوں سے 12 سے زیادہ ڈاکٹروں اور 17 طبی اہل کارکنان کو اغوا کر لیا۔ علاوہ ازیں حوثیوں نے متعدد طبی عہدے داران کو ان کے انتظامی عہدوں سے ہٹا کر اپنے ہمنوا افراد کو ان کی جگہ متعین کر دیا ہے۔

باغی حوثی ملیشیا کی حکومت (غیر تسلیم شدہ) کے وزیر صحت طہ المتوکل نے الثورہ جنرل ہسپتال اور دیگر سرکاری شفا خانوں کے ذمے داران کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ جلد ڈاکٹروں کی ایک زمینی ہنگامی ٹیم تشکیل دیں تا کہ وہ لڑائی کے محاذوں پر پہنچ کر حوثیوں کے زخمی ارکان کو طبی خدمات فراہم کرے۔ تاہم طبی ذمے داران نے اس ہدایت پر عمل سے انکار کر دیا۔

طبی کارکنان کے مطابق ان کے متعدد ساتھی ڈاکٹر اور کارکنان ابھی تک نامعلوم خفیہ مقامات پر موجود ہیں۔ کارکنان نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ مذکورہ افراد کے اغوا میں ملوث ہیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے یمن میں صحت کی صورت حال برباد ہونے سے خبردار کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق ملک میں جنگ کا ساتواں سال شروع ہونے پر مزید انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ عالمی ادارے کی انسانی حقوق کی خاتون رابطہ کار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ یمن میں اس وقت 2 کروڑ افراد کو صحت کے حوالے سے مدد کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ ملک میں صحت کے شعبے سے متعلق صرف 51 فی صد تنصیبات مکمل طور پر کام کر رہی ہیں۔ ملک کے 333 اضلاع میں سے 67 میں ڈاکٹر موجود نہیں ہیں۔ ملک میں ہر 10 منٹ کے اندر ایک بچہ موت کے منہ میں جا رہا ہے جس کو کوشش کر کے بچایا جا سکتا ہے۔