.

اردن : حالیہ سازش میں ملوّث مشتبہ کرداروں کے خلاف سکیورٹی عدالت میں مقدمہ چلے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی حالیہ سازش میں ملوّث مشتبہ کرداروں کے خلاف اسٹیٹ سکیورٹی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ ’’اس اعلیٰ عدالت کے پراسیکیوٹر نے بغاوت کے الزام میں ماخوذ کیے گئے افراد کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے۔‘‘

اردن کی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت میں فوجی اور سویلین دونوں جج ہوتے ہیں۔2013ء میں اس کے دائرہ اختیار کو پانچ قسم کے جرائم تک محدود کردیا گیا تھا اور اب یہ عدالت سنگین غداری،جاسوسی ، منشیات کی اسمگلنگ ، جعلی کرنسی اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کرسکتی ہے۔

اردن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کے الزام میں تین اپریل کے بعد قریباً 20 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں شاہی دیوان کے سابق سربراہ اور سابق وزیرخزانہ باسم عوض اللہ اور سعودی عرب میں اردن کے سابق سفیر شریف حسن بن زید بھی شامل ہیں۔

اردن کے وزیراعظم بشرالخصاونہ نے سوموار کو پارلیمان کے بند کمرے کے اجلاس میں کہا تھا کہ ’’حکومت کا تختہ الٹنے کی کوئی سازش نہیں ہوئی تھی اور سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ بن حسین کے خلاف کوئی مقدمہ بھی نہیں چلایا جائے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اس (کیس) میں ملوّث شہزادہ حمزہ کے سوا ہرکسی کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔سابق ولی عہد کے ساتھ شاہی خاندان کی روایت اور فریم ورک کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔‘‘

پہلے اردنی حکومت نے شاہ عبداللہ دوم کے سوتیلے بھائی اور سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ پر یہ الزام عاید کیا تھاکہ ان سے غیرملکی پارٹیوں سے وابستہ لوگوں کے روابط تھے،وہ اردن کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے تھے اور وہ کچھ عرصہ کے لیے زیر تفتیش رہے تھے۔شہزادہ حمزہ کو مرحوم شاہ حسین بن طلال نے اپنی وفات سے قبل ولی عہد مقرر کیا تھا لیکن 2004ء میں ان کے سوتیلے بھائی شاہ عبداللہ دوم نے انھیں اس منصب سے معزول کردیا تھا۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک ویڈیو جاری کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ وہ گھر پر نظربند ہیں اور انھیں کسی بھی شخص سے روابط سے روک دیا گیا ہے۔انھوں نے سرکاری نظام میں کرپشن سے متعلق سخت الفاظ میں گفتگو کی تھی۔

شاہ عبداللہ دوم نے گذشتہ اتوار کو کہا تھا کہ اردن میں گذشتہ کئی عشروں کے بعد سب سے تکلیف دہ سیاسی بحران اب ختم ہوچکا ہے۔وہ 11 اپریل کو شہزادہ حمزہ کے ساتھ نمودار ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ان کے چچا شہزادہ حسن بن طلال بھی تھے۔

شہزادہ حمزہ نے پانچ اپریل کو شاہی خاندان کی مصالحتی کوششوں کے بعد شاہ عبداللہ دوم سے بیعت کا اعادہ کیا تھا۔اس پر خود شاہ عبداللہ دوم نے گذشتہ بدھ کو ایک نشری تقریر میں کہا تھاکہ ’’سابق ولی عہد نے ملک کے مفادات،اس کےآئین اور قانون کو تمام چیزوں سے مقدم رکھنے کا وعدہ کیا ہے اورانھوں نے اس تنازع کو ہاشمی خاندان کی روایات اور فریم ورک کے مطابق طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میں نے اس ضمن میں اپنے چچا الحسن بن طلال کو معاملہ طے کرنے کامکمل اختیار دیا ہے۔‘‘

اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ ایمن الصفدی نے چار اپریل کوایک نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ ملک کو عدم استحکام سے دوچارکرنے کے لیے ایک ’’مذموم سازش‘‘ تیار کی گئی تھی۔اس کے ایک مرکزی کردار سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ بن الحسین تھے،انھوں نے مقامی حکام اور قبائلی عمائدین کو اپنے حق میں متحرک کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے علاوہ ان کے غیرملکی پارٹیوں سے بھی روابط استوار تھے۔‘‘