.

اسرائیل نے اپنے جہاز پر حملے کے جواب میں کارروائی نہیں کی: امریکی اخبار

’’امریکا سے اسرائیل نے’’ہائپریآن رے‘‘ کارگو بحری جہاز کو تحفظ فراہم کی اپیل کی تھی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مؤقر امریکی اخبار ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ نے اسرائیلی سیکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ تل ابیب، منگل کے روز خلیج کے پانیوں میں اسرائیلی جہاز پر حملے کا جواب دینے کی منصوبہ نہیں کر رہا ہے۔

اخبار کے مطابق عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسرائیل، ردعمل کے طور پر کسی ایرانی جہاز کے خلاف انتقامی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ عہدیدار کے بقول ’’تل ابیب صورت حال کو پرسکون رکھنا چاہتا ہے۔‘‘

اسی نیوز رپورٹ میں امریکی عہدیدار کے حوالے سے بھی بتایا گیا ہے کہ ’’گذشتہ دنوں، اسرائیل نے امریکا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خلیجی پانیوں میں موجود جزیرہ باھامس کے ملکیتی ’’ہائپریآن رے‘‘ نامی کارگو بحری جہاز کی حفاظت کرے، جسے گذشتہ روز خلیج عمان میں حملے کا نشانہ بنایا گیا۔‘‘

امریکی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلیوں کو ایرانی سپاہ پاسداران کی طرف سے ’’ہائپریآن رے‘‘ کو نشانہ بنانے کا خدشہ تھا کیونکہ گذشتہ ہفتے اسرائیل نے بحیرہ احمر میں ایران کے فوجی بحری جہاز کو تارپیڈو کیا تھا۔

اس کمپنی کے ملکیتی ایک جہاز ’’ہیلیوس رے‘‘ کو گذشتہ برس نشانہ بنایا گیا تھا، حملے سے متعلق شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ ایران نے کیا تھا۔

’’ہائپریآن رے‘‘ پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی، تاہم صہیونی میڈیا میں شائع ہونے والے خبروں میں اسرائیلی حکام اس کا ذمہ دار ایران کو قرار دے رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق میزائل حملے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس سے جہاز کو معمولی نقصان پہنچا۔ ’’ہائپریآن رے‘‘ کے ترجمان نے بتایا کہ حملے کے بعد جہاز اپنی منزل طرف روانہ ہو گیا۔

یہ واقعہ نطنز میں ایران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات میں تخریبی کارروائی کے دو دن بعد رونما ہوا۔ ایران، اس خرابی کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دے رہا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان ’’بحری جہازوں‘‘ کی لڑائی چل رہی ہے کیونکہ کچھ عرصہ قبل اسرائیلی کمانڈوز نے یمن کے مغربی ساحل کی طرف ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک جہاز کو نشانہ بنایا جبکہ ایران بھی متعدد تجارتی بحری جہازوں کو ہدف بنا چکا ہے۔