.

عراق کے صوبہ کردستان کے ہوائی اڈے پر ڈرون حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رہ نما ہوشیار زیباری نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت اربیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسلح ڈرون طیارے سے حملہ کیا گیا ہے۔

ہوشیار زیباری نے ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں لکھا ہے کہ کل بدھ کو جس گروپ نے ڈرون طیارے سے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے اسی نے دو ماہ قبل بھی اس ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملہ کھلی جارحیت ، دہشت گردی اور خطرناک اقدام ہے۔ اربیل ہوائی اڈے پر ڈرون سے حملہ کرکے عراق کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

گذشتہ روز ہونے والے اس ڈرون حملے کے بعد کچھ دیر کے لیے فضائی سروس معطل کردی گئی تھی۔ یہ ڈرون حملہ کردستان میں امریکی قونصل خانے کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے چند گھنٹے بعد کیا گیا۔ اس بیان میں امریکی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ عراق میں موجود بے مہار ایرانی ملیشیائیں تمام سفارتی مشنوں کے لیے خطرہ ہیں۔

صوبہ کردستان کی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اربیل ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے بعد پتا چلا ہے کہ یہ حملہ ایک بمبار ڈرون کے ذریعے کیا گیا اور بمباری کے لیے 'ٹی این ٹی' نامی انتہائی خطرناک دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ اربیل ہوائی اڈے پر عالمی اتحادی فوج کا مرکز تھا تاہم اس حملے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اربیل کے گورنر امید خوشناو نے ایک بیان میں کہا کہ حملے میں اربیل کے ہوائی اڈے پر بین الاقوامی اتحادی فوج کے کمپائونڈ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاہم اس حملے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچا ہے۔