.

لبنانی معیشت کے زوال کا خدشہ، حزب اللہ نے خوراک اور تیل ذخیرہ کرنا شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے تین با خبر ذرائع نے خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کو بتایا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے ملک کے معاشی طور پر زوال پذیر ہونے کے خطرے کے پیش نظر اپنے کارکنوں کو راشن کارڈ جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ حزب اللہ نے خوراک ذخیرہ کرنے کی تیاری شروع کر رکھی ہے اور تیل ذخیرہ کرنے کے لیے آئل ٹینکر تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد اپنے سرپرست ایران سے حاصل ہونے والے تیل کا ذخیرہ کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی طرف سے خوراک اور تیل کی ذخیرہ اندوزی معاشی زبوں حالی کے شکار ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ حزب اللہ اپنے فلاحی گروپوں کے نیٹ ورک، کمپنیوں اور دیگر اداروں کی مدد سے صرف شیعہ آبادی کو نوازنا چاہتی ہے۔

حزب اللہ کی طرف سے تیل اور خوراک کی ذخیرہ اندوزی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب لبنان معاشی اور سیاسی طور پر پہلے بحران سے گذر رہا ہے۔ خوراک اور تیل کی قلت ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اور دوسری طرف حزب اللہ کی قومی وسائل پر قبضے کی کوششیں مزید کھل کر سامنے آنے لگی ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر لبنانی حکومت شہریوں کو خوراک جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکام رہتی ہے تو اس کے نتیجے میں عوام کا سیاسی جماعتوں کی قیادت پر اعتماد اٹھ جائے گا اور ملک ایک بار پھر سنہ 1975ء سے 1990ء کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی کے دور میں چلا جائے گا۔

حزب اللہ کی ذخیرہ اندوزی کے منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے قائم مقام حکومت کی خاتون مشیر لیلیٰ حاطوم نے کہا کہ سیاست سے قطع نظر موجودہ حالات میں شہریوں کی امداد کی مخالفت نہیں کی جا سکتی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مہینوں میں حکومت کی طرف سے ضروری اشیا پر دی گئی سبسڈی ختم کیے جانے کی صورت میں معاشی حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں اور ملک میں بھوک اور افلاس میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ حزب اللہ اسی تناظر میں تیاری کر رہی ہے۔

لبنان میں معاشی عدم استحکام کے نتیجے میں ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قدر میں غیر معمولی کمی آئی ہے اور اشیاء خور ونوش کی قیمتوں میں 400 فی صد اضافہ ہوا ہے۔