.

ریاض کے شمال میں ایک بڑے رقبے کی "وقف اراضی" کی حیثیت ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی دارالحکومت میں "روئل کمیشن فار ریاض سِٹی" ((RCRC کی جانب سے جاری ایک فیصلے میں شاہ سلمان روڈ کے شمال میں واقع وقف اراضی کے ایک بڑے حصے کی وقف کی حیثیت ختم کر دی ہے۔ اس طرح یہاں ایک بڑے رقبے پر تصرف کی اجازت ہو گی۔ اس میں منصوبہ بندی، ترقیاتی کاموں، خرید و فروخت اور یہاں تمام تر خدمات پہنچانے سے متعلق کارروائیاں شامل ہیں۔ یہ بات سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA نے ہفتے کے روز بتائی۔

روئل کمیشن نے واضح کیا کہ ریاض میں اس اراضی کے حوالے سے جاری فیصلہ شہر کے مختلف علاقوں میں جاری سلسلہ وار اقدامات کے ضمن میں سامنے آیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ریاض شہر کی حکمت عملی پر عمل درامد کی تیاری ہے تا کہ دارالحکومت کی معیشت کو ترقی دی جائے اور اسے 2030ء تک دو گنا آبادی کی گنجائش کے واسطے تیار کیا جا سکے۔ اس حکمت عملی کا مقصد 2030ء تک ریاض کو معیشت، مسابقت اور معیار زندگی کے لحاظ سے دنیا کے 10 بہترین شہروں کی فہرست میں لا کھڑا کرنا ہے۔

حالیہ فیصلے کے کئی پہلو ہیں جن کا مجموعی مقصد شہر کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا اور رہائشی اور سیاحتی استعمال کی دستیابی کو سپورٹ کرنا ہے تا کہ شہر کے پر کشش ہونے کی سطح بلند کی جا سکے۔ ساتھ ہی عمرانیاتی ماحول کو منظم کرنا ، تاریخی ورثے کے پہلوؤں کی دیکھ بھال اور ان تجاوزات کا علاج کرنا ہے جنہوں نے شہری تہذیب کے منظر کو خراب کر دیا۔

روئل کمیشن فار ریاض سٹی نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا۔ یہ کمیٹی ریاض شہر میں وقف اراضی کے امور کو دیکھے گی۔