.

شام میں صدارتی انتخابات کا انعقاد 26 مئی کو ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں 26 مئی کو صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

حمودہ صباغ کے مطابق بیرون ملک مقیم شامی شہری 20 مئی کو سفارتخانوں میں اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔ صدارتی انتخابات میں شرکت کے امیدواران اپنے کاغذات نامزدگی پیر کے روز سے جمع کروا سکیں گے۔

شام کے موجودہ صدر بشار الاسد نے اب تک الیکشن میں شرکت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ بشار الاسد نے سنہ 2000 میں اپنے بات حافظ الاسد کی وفات کے بعد صدارت کا منصب سنبھالا تھا اور اب بھی انہی کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے قوی امکانات ہیں۔

اس سے قبل 2014 کے انتخابات میں انہوں نے 88 فی صد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ انتخابات شام میں جاری خانہ جنگی کے تیسرے سال میں منعقد کئے گئے تھے۔

شام کے 2012 کے آئین کے مطابق ایک شخص صرف دو بار سات سال کی مدت کے لئے صدر منتخب ہو سکتا ہے اور اس قانون میں 2014 کے انتخابات کو اس شرط سے مستشنیٰ قرار دیا گیا تھا۔

شامی قانون کے مطابق امیدواران کے لئے لازمی ہے کہ وہ کم ازکم دس سال سے شام میں مقیم ہوں۔ اس شرط کے نتیجے میں بیرون ملک پناہ لینے والے شامی حزب اختلاف کے رہنما انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔

ایک اور شق کے مطابق صدارتی امیدواروں کو کم ازکم 35 ممبران پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہونی چاہیے ہے۔ شام کی پارلیمان میں صدر اسد کی جماعت بعث کو اکثریت حاصل ہے۔

شام میں جاری دس سالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں 3 لاکھ 88 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ آدھی سے زیادہ آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو گئی ہے۔