.

سعودی عرب: انسداد بدعنوانی کمیشن کا متعدد فوج داری کیسز کی تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ انسداد بدعنوانی کمیشن نے حالیہ ایام کے دوران متعدد فوجداری مقدمات کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ ان کیسز میں نامزد ملزمان کے خلاف قانونی طریقہ کار مکمل کیا جا رہا ہے۔

پہلا کیس وزارت برائے نیشنل گارڈ کے تعاون سے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل اور گریڈ پندرہ کے دو دیگر ریٹائرڈ ملازمین کو مقامی کمپنیوں سے رشوت کی شکل میں نقد رقم وصول کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ پہلے ملزم 20،500،000 ریال کی رقم وصول کی گئی۔ اس میں غیرملکی (آسٹریا) کی ایک کمپنی سے ایک ملین پانچ لاکھ ریال کی رقم بھی شامل ہے۔ ملزم نے کمپنی سے نقد رقم کے ساتھ اس کے نام پر رہائشی املاک کی خریداری کے ساتھ ساتھ اس کا کچھ حصہ بزنس مین میں منتقل کرنے اور ان کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے اور اس کے بعد ان کی رقم حاصل کرنے کی شکل میں ہے۔

دوسرے ملزم نے 30،153،000 ڈالر وصول کیے۔ یہ رقم اسے قسطوں میں ادا کی گئی۔ تیسرے ملزم نے147.400.000 ریال کی رقم رشوت کی صورت میں وصول کی۔

دوسرے کیس میں وزارت تعلیم کے ایک ڈائریکٹر جنرل برائے پروجیکٹس کو اور پانچ کاروباری شخصیات کو گرفتار کیا گیا۔ سابق ڈائریکٹر نے تاجروں کے ساتھ مل کر وزارت تعلیم سے غیر مجاز طریقے سے منصوبوں اور ٹھیکوں کے حصول کے لیے کمپنیاں بنائیں۔

تیسرے کیس میں وزارت خارجہ کے ایک سینیر افسر کو گرفتار کیا گیا ہے جس نے 733.000 ریال رقم مملکت کے بیرون ملک ایک سفارت خانے کے لیے غیر مجاز طریقے سے حاصل کی تھی۔

چوتھے کیس میں وزارت اطلاعات کے ایک سینیر افسر کی گرفتاری شامل ہے جس میں 328 غیرقانونی لائنسنس جاری کرنے اور ان کے عوض 700.000 ریال رقم حاصل کرنے کا الزام ہے۔

پانچویں‌کیس میں وزارت خزانہ کے دو ملزمان کی گرفتاری شامل ہے۔ ان پر مجموعی طورپر ایک لاکھ 26 ہزار ریال رشوت وصول کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔