.
یمن اور حوثی

حوثیوں کے ہاتھوں بچوں کی بھرتی شرم ناک عالمی خاموشی کے سائے میں اجتماعی نسل کشی ہے :

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا ہزاروں یمنی بچوں کی برین واشنگ کر کے ان کے ذہنوں کو ایران سے درآمد شدہ شدت پسندی پر مبنی افکار سے آلودہ کر رہی ہے۔ ساتھ ہی ان بچوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کر کے انہیں لڑائی کے مختلف محاذوں میں جھونک رہی ہے۔ الاریانی نے باور کرایا کہ یہ "بچوں کے خلاف اجتماعی نشل کشی کے ایسے جرائم ہیں جن کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی ،،، اور ان جرائم کا ارتکاب عالمی برادری کی شرم ناک اور بلا جواز خاموشی کے سائے میں ہو رہا ہے"۔

اتوار کی شب ایک اخباری بیان میں الاریانی نے واضح کیا کہ متعلقہ تنظیموں کی جانب سے جاری اندازوں کے مطابق حوثی ملیشیا نے ریاست کا تختہ الٹنے کے بعد سے لاکھوں بچوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کیا۔ ان بچوں کو بہلا پھسلا کر اور ڈرا دھمکا کر ان کے گھروں اور اسکولوں سے لے جایا گیا اور پھر انہیں موت کی بھٹیوں میں جھونک دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں یہ بچے مارے گئے ، قید ہوئے اور مستقل معذوری سے دوچار ہوئے۔

یمنی وزیر نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، یمن کے لیے امریکا اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچیوں اور انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ سے متعلق تنظٰموں سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن میں دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کے خلاف مرتکب نشل کشی کے ان جرائم کے حوالے سے ذمے دارانہ مواقف اپنائیں۔ ساتھ ہی حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالیں تا کہ وہ بچوں کی بھرتی اور انہیں لڑائی کے محاذوں پر استعمال کرنے کی کارروائیوں کو فوری طور پر روک دیں۔

رپورٹوں کے مطابق ھوثی ملیشیا نے گذشتہ تین برسوں کے دوران میں بچوں اور لڑکپن کی عمر والوں کے لیے عسکری تربیت کے 52 کیمپ کھولے۔ ساتھ ہی ملیشیا نے بچوں کو نظریاتی پروگراموں کے ساتھ منسلک کرنے کا بھی ارادہ کیا۔ یہ پروگرام حوثی ملیشیا کے نظریات اور سوچ سے متعلق ہیں۔ علاوہ ازیں ان بچوں کو لڑائی کے محاذوں پر بھیجا گیا جہاں انہیں براہ راست جھڑپوں میں شامل ہونے، بارودی سرنگیں نصب کرنے اور عسکری چیک پوائنٹس کی نگرانی کرنے کی ذمے داریاں سونپ دی گئیں۔

انسانی حقوق کے ایک نگراں گروپ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ حوثی ملیشیا نے 2014ء کے بعد سے یمن میں تقریبا 10300 بچوں کو جبری طور پر بھرتی کیا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر اقوام متحدہ اس رجحان کو روکنے میں ناکام رہی تو ایسی صورت میں خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔