.

مشرقی القدس کے بیشترفلسطینی مکین انتخابات میں ووٹ ڈال سکتے ہیں:الیکشن کمیشن 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے انتخابی کمیشن نے قراردیا ہے کہ مقبوضہ مشرقی القدس (یروشلیم) کے بیشترفلسطینی مکین قانون ساز کونسل کے انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرسکتے ہیں۔

اسرائیل کے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس، غرب اردن اور غزہ پٹی میں پندرہ سال کے بعد 22 مئی کو قانون ساز کونسل کے انتخابات منعقد ہورہے ہیں اور جولائی میں صدارتی انتخابات منعقد ہوں گے لیکن ان تاریخی انتخابات میں ہزاروں فلسطینی ووٹ نہیں دے سکیں گے۔

فلسطین کے مرکزی الیکشن کمیشن نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ مشرقی القدس میں آباد ڈیڑھ لاکھ فلسطینی ووٹر شہرکے نواح میں قائم کیے جانے والے پولنگ مراکز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔اس عمل کے لیے اسرائیل کی منظوری ضروری نہیں۔

ان کے علاوہ 6300 ووٹر مشرقی القدس میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ان کے لیے اسرائیلی حکام کے زیرنگرانی ڈاک خانوں میں پولنگ مراکز قائم کیے جائیں گے۔

اوسلو معاہدے کے پروٹوکولز کے تحت اسرائیل مشرقی القدس میں پولنگ مراکز قائم کرنے کا ذمے دار ہے اور اس نے 2006ء میں منعقدہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بھی ایسا کیا تھا لیکن اس مرتبہ اس نے ابھی تک فلسطینی اتھارٹی کی اس ضمن میں درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

فلسطینی صدر محمودعباس کا کہنا ہے کہ اگر مشرقی القدس میں رہنے والے فلسطینی ووٹ دینے سے محروم رہتے ہیں تو پھرانتخابات کا انعقاد بھی ممکن نہیں ہوسکے گا۔

فلسطینی مذاکرات کاروں کی سابق قانونی مشیردیانا بطو کا کہنا ہے کہ ’’یروشلیم میں ووٹ ڈالنے پر قدغنوں کا معاملہ انتخابات کی راہ میں حائل ہوسکتا ہے۔سوال یہ ہے کہ امیدواروں کو یروشلیم میں جانے،وہاں انتخابی مہم چلانے اور ووٹ ڈالنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ان ضمانتوں کے بغیر اس مقدس شہر کے فلسطینی مکین یہی چاہیں گے کہ انتخابات کوسرے سے منسوخ کردیا جائے۔‘‘

مقبوضہ مشرقی القدس سے تعلق رکھنے والے قریباً 60 امیدوار فلسطینی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔اسرائیل بالعموم فلسطینیوں کو شہر میں سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دیتا۔اسرائیلی حکام نے اسی اختتام ہفتہ پرتین امیدواروں کو سیاسی سرگرمی کے الزام میں گرفتارکرلیا تھا اور پھر مختصر وقت کے لیے زیرحراست رکھنے کے بعد رہا کردیا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں مشرقی القدس پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر 1980ء کے عشرے میں اس شہرکو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اب وہ تمام شہر (مشرقی اور مغربی القدس) کو اپنا دائمی اور غیر منقسم دارالحکومت قرار دیتا یے جبکہ فلسطینی مشرقی القدس کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔