.

منفرد فن پاروں کے ذریعے وطن کی تصویر پیش کرنے والی سعودی خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک خاتون فن کارہ تخلیقی جدت سے بھرپور اپنے رنگین فن پاروں کے ذریعے آباؤ اجداد کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

منی شبیب السبیعی طائف شہر میں "انجمنِ ثقافت و فنون" کی رکن ہیں۔ وہ کم عمری میں ہی فن کے ساتھ وابستہ ہو گئی تھیں۔ فن سے متعلق متعدد کورسوں اور ورکشاپوں میں شرکت کے سبب منی کی خدا داد صلاحیتوں میں نکھار آ گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے منی نے کہا "میں نے اپنے وطن سے متعلق ایسی پرکشش اشیاء کے ذریعے فن کی دنیا میں توجہ مرکوز کی جو بصری دھنوں کے ساتھ معاصر زندگی کی عکاسی کرتی ہیں"۔

منی کا مزید کہنا تھا کہ "میں عورت کو پھولوں کا گلدستہ اور سایہ دار درخت شمار کرتی ہوں۔ وہ مامتا اور ہمدردی کی علامت ماں ہے، وہ زندگی کی نبض اور اس کی مسرت ہے اور وہ امید اور تمام کھلتے ہوئے رنگوں کا امتزاج ہے۔ عورت میں میرے فن پاروں میں مردوں کے شانہ بشانہ موجود رہتی ہے۔ وہ شریک حیات اور اوطان کی تجدید کی بانی ہے"۔

سعودی فن کارہ کے مطابق انہوں نے اعلی زاویے کے ساتھ تصویر سازی کے جامع فن پر توجہ مرکوز کی ... اور اونٹ، پرانے گھروں، گھوڑوں اور شہسواری کی تصاویر بنائیں۔ ساتھ ہی ماضی کے اچھوتے پن کو حال کی نفیس روح کے ساتھ پیش کیا۔

منی کہتی ہیں "میں سعودی فنی شناخت کے ساتھ اپنے وطن کی سفیر بننے کے لیے کوشاں ہوں۔ یہ میرا خواب ہے جس نے مجھے متحرک کیا ہوا ہے۔ خواب جتنے بھی بلند ہوں وہ مسلسل عمل اور انتھک اخلاص کے ذریعے حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں"۔