.

ایران یورینیم کی افزودگی کے ذریعے دنیا کو چیلنج کر رہا ہے: فرانسیسی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں خاتون رکن پارلیمنٹ نادیا ایسایان کا کہنا ہے کہ "ایران یورینیم کی افزودگی کے ذریعے دنیا کو چیلنج کر رہا ہے "۔

منگل کے روز العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے نادیا نے کہا کہ "پیرس چاہتا ہے کہ ویانا بات چیت کے نمایاں نتائج برآمد ہوں"۔

ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ "مغرب کی خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ تعمیری بات چیت کی طرف واپسی یقینی بنائی جائے"۔

دوسری جانب یورپی یونین میں خارجہ امور اور سیکورٹی پالیسی کے نمائندے جوزف بوریل نے باور کرایا ہے کہ "ویانا مذاکرات میں شامل تمام وفود حل تلاش کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں"۔ بوریل نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ "تمام فریقوں کی جانب سے لچک مطلوب ہے اور ہم جوہری معاہدے کے تمام فریقوں اور امریکا کے ساتھ بھی علاحدہ صورت میں اپنی کوششوں کو بڑھانے کے واسطے تیار ہیں"۔

واضح رہے کہ ویانا بات چیت آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہو گی۔

ایران اور عالمی قوتیں اپریل کے اوائل سے ویانا میں اکٹھا ہو رہی ہیں تا کہ ان اقدامات پر کام ہو سکے جو تہران اور واشنگٹن کی معاہدے کی مکمل پاسداری کی طرف واپسی کے لیے ضروری ہیں۔ بات چیت میں امریکا کی پابندیاں اور معاہدے کے حوالے سے ایران کی عدم پاسداریاں بالخصوص یورینیم کی افزودگی کی مقررہ حد سے تجاوز جیسے موضوع زیر بحث آئے ہیں۔

ادھر ایران کے ایک سینئر جوہری مذاکرات کار عباس عراقجی منگل کے روز اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ مشکلات کے باوجود ویانا بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر "غیر منطقی مطالبات" یا وقت کے ضیاع کی صورت حال کا سامنا ہوا تو تہران مذاکرات روک دے گا۔

ایرانی حکومت نے منگل کے روز اعلان کیا کہ تہران نے 60% کے تناسب سے خالص یورینیم افزودہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر امریکا نے پابندیاں اٹھا لیں تو اس اقدام سے جلد رجوع کیا جا سکتا ہے۔