.

اردنی استغاثہ کا 18افراد کے خلاف ’’فتنہ‘‘ کیس میں قانونی چارہ جوئی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے پبلک پراسیکیوشن نے ’فتنہ کیس‘ کے تحت 18 افراد کو باضابطہ حراست میں لیا ہے۔ ان پر ملک میں امن واستحکام کو متزلزل کرنے کی کوشش کا الزام ہے۔

اردنی خبر رساں ادارے بطرا نے پبلک پراسیکیوشن کے عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ’ملزمان سے پوچھ گچھ مکمل کر لی گئی ہے۔ قانونی کارروائی اور تحقیقات کا عمل پورا کرکے کیس ریاستی سلامتی کی عدالت کو بھیجا جائے گا۔‘

ریاستی سلامتی عدالت کے پبلک پراسیکیوٹر بریگیڈیئر حازم المجالی نے منگل کو بیان میں کہا تھا کہ ’پبلک پراسیکیوشن نے فتنہ کیس سے متعلق تحقیقات کا کام مکمل کرلیا ہے۔‘

پبلک پراسیکیوشن نے اردن میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تحقیقات کا کام مکمل کرلیا ہے۔ نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ ملزمان کردار تقسیم کیے ہوئے تھے۔ ان کی سرگرمیاں اردن کے امن و استحکام کے لیے کھلا خطرہ بننے جا رہی تھیں۔

اس سے قبل فتنہ کیس میں 16 افراد کی گرفتاری کی اطلاع ملی تھی جن میں ایوان شاہی کے سابق سربراہ باسم عوض اللہ کو بدامنی پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

اردن وزیر اعظم بشر الخصاونۃ نے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کے دوران بتایا کہ ’باسم عوض اللہ شہزادہ حمزہ بن حسین سے رابطے میں تھے۔ ایک برس سے زیادہ عرصے سے رابطہ رکھے ہوئے تھے۔