.

ریاض کے اس کتب خانے میں سعودی تاریخ سے متعلق 3200 کتب اور نادر مخطوطے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ عبدالعزیز جنرل لائبریری مغربی دنیا کے ایک اہم ترین نجی کتب خانے کی ملکیت رکھتی ہے۔ یہ کتب خانہ امریکی مستشرق (مغربی دنیا کا وہ فرد جو مشرقی علوم و فنون میں مہارت یا دل چسپی رکھتا ہو)George Snaavely Rentz کا ہے۔ اس میں مخطوطات، دستاویزات اور تصاویر کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ 3200 کتابیں (انگریزی، عربی اور فرانسیسی زبان میں) بھی ہیں۔

ان میں زیادہ تر کتابیں 1930ء سے 1960ء کے درمیان سعودی تاریخ کے مطالعے پر مشتمل ہیں۔ جورج رینٹز سعودی ارامکو کمپنی میں تحقیق و ترجمے کے مرکز کے سربراہ رہے۔ وہ اندرون و بیرون ملک بہت سے سماجی طبقات ، اداروں اور دانش وروں کے ساتھ نہایت وسیع تعلقات رکھتے تھے۔ انہیں جزیرہ عرب کے تمام امور میں بے حد دل چسپی تھی۔ وہ یونیورسٹی پروفیسر بھی رہے اور ان کی مختلف موضوعات پر تالیفات بھی ہیں۔ جورج رینٹز عربی زبان بولنے اور لکھنے میں مہات رکھتے تھے۔ وہ اپنے ملک کی طرف سے جزیرہ عرب کے امور کے مشیر اور علمی ماہر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

اس امریکی مستشرق کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو شاہ عبدالعزیز کے ہاتھوں مملکت سعودی عرب کی تاسیس کے دور کے معاصر رہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے واقعات اور عرب لیگ کا قیام دیکھا۔ ساتھ ہی جزیرہ نما عرب میں سرحدوں کی حد بندی اور پٹرول کی پیداوار (1946ء سے 1963ء) بھی ان کے سامنے ہوئی۔

جورج رینٹز دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد ارامکو کمپنی میں 17 برس تک مترجم کے طور پر مقرر رہے۔ انہیں 1946ء میں حکومتی تعلقات کی انتظامیہ میں شعبہ تحقیق و ترجمہ کا سربراہ بنا دیا گیا۔ اس دوران میں رینٹز نے بدوؤں کے قبائل کی زبانی تاریخ محفوظ کی۔ بعد ازاں انہوں نے کیلی فورنیا یونیورسٹی سے شیخ محمد بن عبدالوہاب کے بارے میں تحقیقی مقالہ پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

رینٹز 1963ء میں ارامکو سے ریٹائر ہونے کے بعد اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے منسلک ہو گئے۔ وہ وہاں ہوور لائبریری میں مشرق وسطی کے شعبے کے سکریٹری بن گئے۔ انہوں نے لائبریری میں عربی ، ترکی اور فارسی کتابوں کے مجموعوں میں توسیع کی۔ رینٹز 22 دسمبر 1987ء میں کیلیفورنیا میں وفات پا گئے۔

جورج رینٹز کی دستاویزات کا مجموعہ ذاتی اور سرکاری دستاویزات کے علاوہ ، تحقیقی مطالعوں ، اخباری مقالوں، یادداشتوں اور رپورٹوں پر مشتمل ہے۔ ان میں زیادہ تر کا بالخصوص مملکت سعودی عرب اور خلیجِ عربی اور بالعموم مشرق وسطی اور اسلام سے قریبی تعلق ہے۔

دستاویزات کی اکثریت علمی اور تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ ان میں شاہ عبدالعزیز کے مصر کے دورے اور شاہ سعود کے امریکا کے دورے کے بارے میں مصری عربی اور انگریزی اخباروں کی کوریج شامل ہے۔ علاوہ ازیں مملکت سعودی عرب اور بعض امریکی کمپنیوں کے بیچ تیل کے معاہدوں سے متعلق دستاویزات بھی ہیں۔