.

بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے احاطے میں راکٹ حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب تین راکٹ گرے۔ راکٹوں کے ذریعے "وکٹوریہ عسکری فضائی اڈے" کو نشانہ بنایا گیا جہاں عراقی اور امریکی فوجی تعینات ہیں۔

تینوں راکٹوں کو بغداد کے جنوب مغرب میں ہوائی اڈے کے نزدیک واقع علاقے "الفرات" سے داغا گیا۔

ذرائع کے مطابق تینوں راکٹ فضائی اڈے کے اس حصے میں گرے جہاں عراقی فورسز کام کرتی ہیں۔ اس حصے میں یہاں امریکی فوجی موجود نہیں ہوتے۔

یہ فضائی اڈہ عراقی فوجیوں اور امریکی فوجیوں کے زیر استعمال ہے۔ یہ امریکی فوجی داعش تنظیم کے خلاف سرگرم بین الاقوامی اتحاد میں شریک ہیں۔ اس اتحاد کی قیادت امریکا کر رہا ہے۔

عراقی سیکورٹی ذرائع کے مطابق راکٹ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حملے کے فوری بعد فضائی اڈے میں خطرے کے سائرن بجنے شروع ہو گئے۔

ابھی تک کسی تنظیم یا گروپ نے اس کارروائی کی ذمے داری قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا۔

عراقی میڈیا کے مطابق بغداد کے مغربی علاقے میں ایک راکٹ لانچر ملا ہے۔ ادھر العربیہ نیوز چینل کے ذرائع نے بتایا کہ مجموعی طور پر 8 راکٹ لانچنگ پیڈز ملے ہیں۔

عراقی میڈیا نے بتایا ہے کہ بغداد ہوائی اڈے کے احاطے میں گرنے والے راکٹ "کیٹوشیا" ماڈل کے ہیں۔

ایک ہفتے کے اندر یہ عراق میں امریکی فوجیوں کو راکٹ حملے سے نشانہ بنانے کی دوسری کوشش ہے۔ اتوار کے روز بغداد کے شمال میں واقع فوجی اڈے پر 5 راکٹ داغے گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں تین عراقی فوجی اور دو غیر ملکی خواتین کنٹریکٹر شامل ہیں۔

رواں سال 20 جنوری کو امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک عراق میں امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں یا امریکی سفارتی مراکز کو مجموعی طور پر 23 حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں راکٹوں اور بموں کا استعمال کیا گیا۔