.

منشیات کی اسمگلنگ کے بعد سعودی عرب نے لبنان سے پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات بند کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے لبنان سے منشیات کی اسمگلنگ کی بار بار کی جانے والی کوششوں کے بعد مملکت نے لبنان سے آنے والے پھلوں اور سبزیوں کے داخلے پرپابندی عاید کردی ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دوسری طرف سعودی عرب میں کسٹمز کے حکام نے لبنان سے سعودی عرب داخل کی جانے والی ایمفٹامین کی 24 لاکھ گولیاں قبضے میں لے کر 5 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ منشیات سبزیوں اور پھلوں کی کھیپ میں چھپا کر سعودی عرب لانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

سعودی عرب میں متعلقہ حکام کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان سے مملکت میں منشیات داخل کرنے کی بار بار سازشوں کے بعد ہم لبنان سے پھلوں اور سبزیوں کی خریداری روکنے پرمجبور ہیں۔آئندہ اتوار سے لبنان سے سعودی عرب کسی قسم کے پھل اور سبزیاں برآمد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لبنانی حکومت کو چاہیے کہ وہ منصوبہ بندی کے تحت سعودی عرب کو منشیات کی اسمگلنگ کی کارروائیاں پر پابندی لگائے۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ہم بیرون ملک بالخصوص لبنان سے آنے والے تمام کارگو سامان کی باریک بینی سے چھان بین کریں‌گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لبنان سے متعدد بار سعودی عرب میں منشیا کی سپلائی کی کوششیں‌کی گئیں جس پر مملکت نے یہ معاملہ لبنانی حکومت کے سامنے اٹھایا مگر لبنانی حکومت اسے روکنے میں ناکام رہی ہے۔

خیال رہے سعودی عرب میں حکام نے پڑوسی ملک لبنان سے منشیات کی بھاری مقدار مملکت میں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 'ایم فیٹامین' کی لاکھوں گولیاں قبضے میں لے لی ہیں۔

سعودی عرب کے جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے نارکوٹکس کنٹرول کے ترجمان کیپٹن محمد النجیدی نے بتایا ہے کہ مملکت میں منشیات کی اسمگلنگ کوشش ناکام بناتے ہوئے ایم فیٹامن نامی منشیات کی 2،466،563 گولیاں قبضے میں لے لی ہیں۔ یہ کارروائی جنرل اتھارٹی کسٹمز کے تعاون سے دمام کی شاہ شاہ عبد العزیزبندرگاہ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کی گئی۔ منشیات لبنان سے آنے والے انار کے پھلوں کی کھیپ میں چھپائی گئی تھی۔

جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول کے ترجمان نے بتایا کہ اسمگلنگ کی کوشش میں ملوث پانچ افراد کو حفر الباطن گورنری میں گرفتار کیا گیا۔ان میں ایک مقامی اور چار غیرملکی ہیں۔

النجیدی نے کہا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے اور انہیں تفتیش کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔