.

شام کی ساحلی حدود میں ایران کے آئل ٹینکرپرڈرون حملہ، تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی ساحلی حدود میں ہفتے کے روزایران کے ایک آئل ٹینکر پر ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ڈرون ٹکرانے کے بعد ٹینکر میں آگ لگ گئی تھی۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ایرانی ٹینکرپرحملے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ اس میں مرنے والوں میں تیل بردار ٹینکر کے عملہ کے دور ارکان بھی شامل ہیں لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا کوئی میزائل اس پر داغا گیا ہے یا اس کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور یہ کہا ہے’’ہمیں یہ یقین ہے کہ لبنان کے پانیوں کی سمت سے یہ ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔اس سے ٹینکر میں لگنے والی آگ کو بجھا دیا گیا ہے۔‘‘سانا نے اپنی رپورٹ میں حملے میں ہلاکتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

اس نے مزید بتایا ہے کہ شام کے ساحلی صوبہ طرطوس میں واقع شہربانیاس کی آئل ریفائنری کے نزدیک ایرانی ٹینکر پر یہ حملہ کیا گیا تھا۔طرطوس پرشامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا کنٹرول ہے۔فوری طورپر یہ واضح نہیں ہواکہ اس حملے کے پیچھے کس گروپ یا ملک کا ہاتھ کارفرما ہے۔

شامی رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کاکہنا ہے کہ ’’شام کے پانیوں میں کسی آئل ٹینکرپر اس طرح کا یہ پہلا حملہ ہے لیکن ماضی میں بانیاس ٹرمینل کوحملوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔‘‘

گذشتہ سال کے اوائل میں دمشق حکومت نے بانیاس ریفائنری کی سمندر سے گذرنے والی پائپ لائن پر حملے کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ غوطہ خوروں نے پائپ لائن کے ساتھ دھماکا خیز مواد نصب کردیا تھا،مگراس کے دھماکے سے پائپ لائن سے تیل کی ترسیل متاثرنہیں ہوئی تھی بلکہ جاری رہی تھی۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 2011ء کے بعد سے شامی سرزمین میں سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں شامی فوج یااس کی اتحادی ایرانی فورسزاور ان کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کو حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو دمشق کے مشرق میں واقع علاقے میں ایک فضائی حملہ کیا تھا۔اس میں ایک شامی افسرمارا گیا تھا۔اس نے حملہ شام سے اسرائیل کے جنوب میں واقع ایک خفیہ جوہری تنصیب کی جانب میزائل داغے جانے کے ردعمل میں کیا تھا۔