.

غزہ کی پٹی سے راکٹوں کے داغے جانے کے بعد اسرائیل کی جوابی گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب غزہ کی پٹی میں کئی اہداف کو بم باری کا نشانہ بنایا جن میں فلسطینی تنظیم حماس کے زیر انتظام ٹھکانے بھی ہیں۔ یہ بات العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نمائندے نے بتائی۔

اس سے قبل غزہ کی پٹی سے 9 راکٹ داغے گئے تھے جن میں سے 4 راکٹوں کو اسرائیلی فوج نے فضا میں تباہ کر دیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نمائندے کے مطابق راکٹ حملے کے بعد غزہ کی پٹی کے نزدیک واقع یہودی بستیوں میں خطرے کے سائرن بجنا شروع ہو گئے۔

اسرائیلی فوج نے جمعے کی شب ایک اعلان میں بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی سے 3 راکٹ داغے گئے تھے۔ اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم نے ان میں سے ایک راکٹ کو فضا میں تباہ کر دیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نمائندے کے مطابق بقیہ دو راکٹ جنوبی اسرائیل میں کھلے میدان میں گرے۔

بعد ازاں اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کی پٹی میں مختلف ٹھکانوں پر گولے داغے۔ غزہ کی پٹی میں سیکورٹی ذرائع اور عینی شاہدین نے اس کی تصدیق کی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے کارروائی میں حماس تنظیم کے مراکز کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی جوابی کارروائی کے ختم ہوتے ہی غزہ پٹی سے راکٹوں کی نئی کھیپ عبرانی ریاست کے جنوب کی سمت داغ دی گئی۔ اس کھیپ میں سات راکٹ تھے جن میں کم از کم تین کو اسرائیلی آئرن آف ڈوم سسٹم نے روک لیا۔

اس بار بھی غزہ کی پٹی کے نزدیک واقع اسرائیلی یہودی بستیوں میں خطرے کے سائرن بجنا شروع ہو گئے۔

دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں کئی روز سے فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپیں اور تصادم دیکھا جا رہا ہے۔ اس کا پس منظر چند روز قبل وہ واقعہ ہے جب پولیس نے باب العامود کے علاقے میں فلسطینیوں کو اکٹھا ہونے سے روک دیا تھا۔ فلسطینی عوام رمضان کی راتوں میں مذکورہ علاقے میں جمع ہونے کے عادی ہیں۔

جمعرات کی شب اور جمعے کی صبح فلسطینیوں کی اسرائیلی پولیس اور یہودی آباد کاروں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اسرائیلی پولیس نے شہر میں 50 سے زیادہ فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا۔