.
یمن اور حوثی

حوثیوں نے ڈاکٹروں کی کرونا ویکسی نیشن سے انکار کر دیا : ڈبلیو ایچ او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے انکشاف کیا ہے کہ یمن میں حوثی ملیشیا نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے طبی ٹیموں کی ویکسی نیشن کی مشترکہ مہم پر عمل درامد کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔

یمن میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ادہم عبدالمنعم کے مطابق حوثیوں نے ابتدا میں ویکسی نیشن کی 10 ہزار خوراکیں قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ حوثیوں نے یہ شرط رکھ دی کہ ویکسین کی تقسیم عالمی ادارہ صحت کی نگرانی سے ہٹ کر کی جائے۔

عالمی ادارہ صحت کے نمائندے نے جمعے کی شام وڈیو کے ذریعے یمنی ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والے سیمینار میں بتایا کہ اس کے بعد حوثی ملیشیا نے لوٹ کر صرف ایک ہزار خوراکوں کا مطالبہ کیا جو 500 ڈاکٹروں کے لیے مخصوص تھیں۔ ملیشیا کا کہنا تھا کہ ویکسی نیشن کا عمل وزارت صحت کے دفتر میں ملیشیا کے زیر نگرانی انجام دیا جائے۔

عبدالمنعم نے صنعاء میں حوثی حکام کی جانب سے اس تعامل کو "حیرت انگیز" اور "بلا جواز" قرار دیا۔

یمن میں آئینی حکومت کی وزارت صحت نے مارچ کے اواخر میں برطانوی ویکسین اسٹرازینیکا کی 3.6 لاکھ خوراکیں حاصل کی تھیں۔

یمنی وزارت صحت نے عارضی دارالحکومت عدن میں گذشتہ منگل کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسی نیشن مہم کا آغاز کیا۔ مہم کا آغاز فرنٹ لائن میں کام کرنے والے طبی کارکنان اور ان افراد سے کیا گیا جن کو کرونا سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔

یمن کے 13 صوبوں کے 133 اضلاع میں ویکسی نیشن مہم جاری رہے گی۔ حوثیوں کے زیر کنٹرول طبی مراکز میں 10 ہزار خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔ اس مہم کی نگرانی عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کی جائے گی۔

اس سے پہلے یمنی وزارت صحت کے سکریٹری علی الولیدی یہ بتا چکے ہیں کہ یمن کو آئندہ ماہ 10 لاکھ سے زیادہ خوراکیں ملیں گی۔ سعودی عرب میں شاہ سلمان امدادی مرکز عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے 50 فی صد خوراکیں فراہم کرنے پر کام کر رہا ہے۔