.

الاحسا کے سرخ چاول ماہ صیام میں روزہ داروں کی مرغوب غذا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی زرخیز علاقے الاحسا میں کاشت ہونے والے سرخ چاول گورنری میں کجھورکی کاشت کے بعد دوسری بڑی فصل ہے۔ یہ سرخ چاول مملکت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں مہنگے تصور کیے جاتے ہیں۔ الاحسا میں موسم گرما میں کاشت ہونے والے سرخ چاول کی فصل 48 درجے سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت کو برداشت کر سکتی ہے۔

الاحسا میں کاشت ہونے والے مہنگے سرخ چاول مقامی آبادی کے لیے قدرت کا عظیم تحفہ ہیں اور ماہ صیام کی ایک خاص سوغات ہیں۔ شعبان کے آخر اور ماہ صیام میں ان چاولوں کی طلب 50 سے 60 فی صد بڑھ جاتی ہے۔ اپنے معیار، ذائقے، لذت اور غذائی فواید کی بہ دولت یہ چاول دنیا میں اپنی خاص انفرادیت رکھتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الاحسا میں چاول کے ایک کاشت کار زکی سالم نے بتایا کہ وہ 30 سال سے زاید عرصے سے یہ سرخ چاول کاشت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہ صیام میں جہاں مقامی کھجور کی طلب بڑھ جاتی ہے وہیں الاحسا کے اندر اور باہر سے سرخ چاول کی طلب میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیسی سرخ چاول کاربوہائیدریٹ، پروٹین، فائبر اور دیگر طبی خواص سے بھرپور ہوتے ہیں اور ماہ صیام میں یہ روزہ داروں کے لیے بہترین خوراک ہیں۔ یہ چاول ہڈیوں کے درد سے آرام میں مدد دیتے اور جسم میں کولسٹرول کی مقدار کومتوازن رکھتےہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الاحسا کے سرخ چاول کو ذیابیطس اور دائمی امراض سے دوچار مریضوں کے لیے بھی مفید خیال کیا جاتا ہے۔ ماہ صیام میں یہ چاول الاحسا میں ہر گھر کے کھانے کا حصہ ہیں اور انہیں چھوٹے بڑے سب بے حد پسند کرتے اور شوق سے کھاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں‌مقامی کاشت کار کا کہنا تھا کہ ان کے کھیتوں سے ہرسال 12 ہزار سے 18 ہزار سرخ چاول کے بیگ تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ ان کا شمار سرخ چاول کاشت کرنے والے بڑے کسانوں میں ہوتا ہے۔

الاحسا کے سرخ چاول کو دنیا کے مہنگے چاول قرار دیا جاتا ہے۔ یہ چاول مقامی سطح پر 30 ریال کلو میں فروخت ہوتے ہیں۔