.
ایران جوہری معاہدہ

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی'ارنا' کا 'العربیہ' چینل پر جانب دارانہ رپورٹنگ کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "آئی آر این اے" نے العربیہ چینل پر شدید تنقید کرتے ہوئے نشریاتی ادارے پر جانب دارانہ غیر منطقی رپورٹنگ کا الزام عاید کیا ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی 'ارنا' نے الزام عاید کیا ہے کہ دبئی سے نشریات پیش کرنے والے 'العربیہ' چینل نے اپنی رپورٹوں کو ایرانی میزائل پروگرام کے خطرے پر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ایرانی میزائل پروگرام کو جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کےساتھ جوڑنے کی مہم چلا رکھی ہے۔

ایرانی ایجنسی نے کہا ہے کہ العربیہ اپنی رپورٹوں میں دعوی کرتا ہے کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ اور جنگی تربیت فراہم کرتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام کو امریکا اور بڑی طاقتوں نے ایران کے ساتھ بات چیت کی ترجیحات کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے اس پر سخت پابندیاں عائد کردی تھیں اور تہران کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں ایرانی میزایل پروگرام کو شامل کیا گیا تھا۔ بائیڈن انتظامیہ بھی سمجھتی ہے کہ ایرانی میزائل پروگرام کے مشرق وسطیٰ‌کے خطے اور عالمی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

"آئی آر این اے" نے العربیہ چینل پر جن خبروں کو جانب دارانہ انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام عاید کیا ہے ان میں ایرانی عہدیداروں کے وہ بیانات بھی شامل ہیں جن میں وہ اعراف کرچکے ہیں کہ ایران یمن میں حوثی ملیشیا کی عسکری مدد کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کے عہدیدار رستم قاسمی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن میں حوثیوں کی عسکری معاونت کے لیے ایران عسکری مشاورت فراہم کر رہا ہے۔

رستم قاسمی نے مزید کہا کہ پاسداران انقلاب نے حوثیوں کو اسلحہ فراہم کیا اور انہیں جنگی تربیت دینے کے ساتھ اسلحہ سازی کی بھی ٹریننگ دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی تمام حربی صلاحیت اور عسکری طاقت ایران کی معاونت کا ثمر ہے۔
خیال رہے کہ چند روز قبل امریکی وزارت دفاع 'پینٹاگان' کے ترجمان کمانڈر جیسکا مانولٹی نے کہا تھا کہ ایران طویل عرصے سے حوثیوں‌کو اسلحہ کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

امریکی حکام اس سے قبل بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ عراق اور یمن میں ہونے والے حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان دونوں ملکوں میں امریکی مفادات اور امریکی اتحادیوں پر ہونے والے حملوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون طیارے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یمن سے سعودی عرب کے شہروں پر ہونے والے حملوں میں بھی ایرانی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کی جا چکی ہے۔