.

سعودی عرب کے بعد کویت کا بھی لبنان سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمدات روکنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے بعد ایک اور خلیجی ریاست کویت نے بھی لبنان سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمد روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کویتی اخبارالرائے نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ وزارت تجارت کے حکام اور بڑے درآمد کنندگان کے درمیان ملاقات کے بعد اس ضمن میں زبانی ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور متعلقہ حکام سے یہ کہا گیا ہے کہ برّی، بحری یا فضائی ذرائع حمل ونقل سے لبنان سے آنے والی سبزیوں اور پھلوں کی درآمد روک دی جائے۔

سعودی عرب نے جمعہ کو 25 اپریل کی صبح نو بجے سے لبنان سے سبزیوں اورپھلوں کی درآمد بندکرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس نے یہ اقدام لبنانی دارالحکومت بیروت سے آنے والی سبزیوں اور پھلوں کے کنٹینروں میں منشیات کی اسمگلنگ میں اضافے کے بعد کیا تھا اورحال ہی میں بھاری مقدار میں منشیات ضبط کی ہیں۔

کویت کی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کے اس فیصلے کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔اس نے ایک بیان میں لبنانی حکام پر زوردیا ہے کہ وہ ممنوعہ اشیاء سے پاک برآمدات کویقینی بنائیں اورلبنان سے باہر بھیجے جانے والے پھلوں، سبزیوں میں کوئی ممنوعہ چیز شامل نہیں ہونی چاہیے۔

مملکت کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق سعودی کسٹمز نے نشہ آوردوا کیپٹاگون کی 50 لاکھ سے زیادہ گولیاں اسمگل کرکے لانے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔یہ لبنان سے آنے والے پھلوں میں چھپائی گئی تھیں۔

کیپٹاگوں کو بالعموم میدان جنگ میں برسرپیکار جنگجواستعمال کرتے ہیں کیونکہ اس سے لڑائی میں مسلسل شریک رہنے سے تھکن دورہوتی اور استعمال کرنے والے بندے کوآرام وسکون ملتاہے۔یہ نشہ آور ایمفیٹامائن پر مبنی ہے،لبنان میں اس کوبڑے پیمانے پر تیار کیاجاتا اورپھرغیرقانونی طور پر دوسرے ممالک میں اسمگل کردیا جاتا ہے۔

سعودی اعلامیے کے مطابق لبنان سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمدات پر پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی،جب تک لبنانی حکام منشیات کی اسمگلنگ کے منظم دھندے پر قابو پانے کی یقین دہانی نہیں کرادیتے اور اس ضمن میں وہ مناسب اور قابل اعتبار ضمانتیں فراہم نہیں کردیتے۔

دوسری جانب لبنان نے سعودی عرب میں اپنی برآمدات پر پابندی کے نفاذ کے بعد منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کا اعلان کیا ہے۔