.

سعودی ولی عہد کے کونسل دفتر میں موجود پینٹنگ کس نے تیار کی تھی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عربی خطاطی کی زبان اور رنگوں سےتیار کردہ فائن آرٹ کی ایک عمدہ پینٹنگز نے آرٹ اور فنون کو پسند کرنے والوں کو دلوں کو ایسی پسند آئی کہ اس کی شہرت سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے دفتر سے نکل کر چار دانگ عالم میں پھیل گئی ہے۔ ایسی ہی ایک دوسری پینٹنگ جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے قائم کردہ'ارائیول لائونچ' میں رکھی گئی ہے جو ہوائی اڈے پر غیرملکی مسافروں کا استقبال کرتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے آرٹسٹ فہد خلیف نے وضاحت کی کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کونسل کی دیوار پر لٹکی پینٹنگ ان کی تیار کردہ ہے۔ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ولی عہد کی کونسل کے دفتر اور وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے دفتر میں لگی پینٹنگز ان کی تیار کردہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے تیار کردہ فن پارے بیشتر سعودی اکیڈمیوں تعلیمی اداروں کے دفاتر، دنیا کے مختلف ممالک ، سفارت خانوں اور وزارت خارجہ کے دفاتر اور روسی وزیر ثقافت کی درخواست پر ان کی 3 اہم پینٹنگز روسی عجائب گھروں میں موجود ہیں۔

جہاں تک شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس کی پینٹنگ کے انٹرفیس میں رکھنے کی بات ہے تو اس پر آرٹسٹ نے وضاحت کی کہ یہ انتخاب کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ خاکے اور ابتدائی ڈیزائن پیش کرنے کا نتیجہ ہے۔ مختلف فن پاروں کی تیاری کے لیے پیش کردہ ڈیزائنز اور خاکوں میں ان کے خاکے کو پسند کیا گیا۔ ان کی تیار کردہ پینٹنگ اس مرکب کی خوبصورتی ،حیرت انگیز رنگت اس کے انتخاب کا ایک اہم سبب ہے جس میں مقامی عرب تشخص کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سعودی آرٹسٹ خلیف نے عربی رسم الخط کے مفہوم اور آرٹ اور فن پاروں میں عربی رسم الخط کےدرمیان فرق کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پڑھے جانے کے قابل عربی رسم الخط پینٹنگ کو ایک نص کی شکل میں تبدیل کر دیتی ہے جس سے اس کا جمالیاتی پہلو چھپ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اور بہت سے آرٹسٹ عربی رسم الخط کو باضابطہ جمالیاتی اور رسمی طور پر اپنے آرٹ اور اس کی تشکیل میں عربی حرف کی حیرت انگیز خوبصورتی اور اس کی موسیقی کی تال اور عربی شناخت کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی آرٹسٹ پابلو پکاسو کا ایک قول مشہور ہے کہ آرٹ کے میدان میں میں نے جتنا کام کیا ہے میں اس نتیجے تک پہنچا ہوں‌کہ عربی رسم الخط مجھسے بہت پہلے وہاں پہنچ چکا تھا۔

آرٹسٹ فہدخلیف نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی مصور یقینی طور پر اپنے ملک کی تہذیب کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتاہے اور یہ سب سے عمدہ چیز ہے جو ایک عالمی زبان کے ساتھ عصری آرٹ کے کام میں اپنے ملک کی شناخت کو اجاگر کرنےکا ذریعہ بن جاتا ہے۔ آرٹ کے نمونے کسی بھی علاقے کی پہچان کے ساتھ دنیا کے خطے میں ذوق رکھنے والے لوگوں کے لیے دلچسپی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ مختلف زبانوں ، ثقافت اور رجحانات سے قطع نظر آرٹ ایک ایسی چیز ہےجس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔