سعودی عرب کے صوبے الباحہ میں دو تاریخی مساجد کی تجدید اور تزئین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں تاریخی مساجد کی بحالی اور تزئین سے متعلق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے تحت جنوب مغربی شہر باحہ کی دو مساجد میں ترقیاتی کام مکمل کیا گیا۔یہ مساجد الملد اور الظفیر میں واقع ہیں جو باحہ صوبے کے سب سے پرانے دیہات شمار ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں الملد گاؤں کے سرکاری عہدے دار احمد بن علی الغامدی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے مسجد کے قدیم سماجی کردار، اس کی اہمیت اور الملد گاؤں پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا "جب گاؤں کی تکمیل ہو گئی تو یہ جگہ گاؤں کے لوگوں کے لیے نماز ادا کرنے کا مقام بن گیا۔ بعد ازاں وقت اور بدلتے موسم کے پیش نظر گاؤں کے لوگوں نے مادی وسائل کی قلت کے باوجود یہ مسجد تعمیر کر لی"۔

مسجد کے بیرونی صحن اور روشنی سے جگمگاتے بلند مینار کے ساتھ مسجد الظفیر نے ایک بار پھر نمازیوں کا استقبال شروع کر دیا۔ مسجد کے تاریخی خد و خال اس دور کی یاد دلاتے ہیں جس دور میں ان نمازیوں کے آباؤ اجداد نے گاؤں میں زندگی گزاری۔

جہاں تک مسجد الملد کا تعلق ہے تو یہ تاریخی مسجد 1364 ہجری میں تعمیر کی گئی۔ یہ تاریخ مسجد کے ایک لکڑی کے ستون پر کندہ ہے۔ اس مسجد نے بھی الملد گاؤں کے مقامی نمازیوں کے لیے اپنے دروازے پھر سے کھول دیے ہیں۔ یہ گاؤں اپنے محل وقوع کے سبب الباحہ صوبے کے ایک قلعے کی حیثیت رکھتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں