.

اسرائیل کے طیارے مشرقِ اوسط میں کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں:انٹیلی جنس وزیر

ایران سے امریکا کی کوئی بُری ڈیل ہوتی ہے تو اس سے خطہ جنگ کے گھن چکر میں پھنس کر رہ جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیربرائے سراغرسانی ایلی کوہن نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان اگر کوئی نئی بُری جوہری ڈیل ہوتی ہے تو اس سے پورا خطہ ہی جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل کے طیارے مشرقِ اوسط کے خطے میں کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں۔انھوں نے اسرائیل کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارت کاری کا پابند نہیں ہوگا۔

انھوں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جو کوئی قلیل المیعاد مفاد کا خواہاں ہے تو اس کو طویل المیعاد مضمرات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ایران کو کسی بھی جگہ استثنا حاصل نہیں ہے۔ہمارے طیارے مشرقِ اوسط میں کہیں بھی جاسکتے ہیں اور یقینی طور پر ایران میں بھی ۔‘‘

ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ دنیا ایران کو نہ صرف یورینیم کو افزودہ کرنے اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری سے روکے بلکہ دوسرے ممالک میں عدم استحکام کی سرگرمیوں اور جنگجوؤں کو رقوم مہیا کرنے سے بھی باز رکھے۔

ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں امریکا کی دوبارہ شمولیت کے لیے اس وقت ویانا میں مذاکرات جاری ہیں۔امریکی ایلچی اور ایرانی حکام بالواسطہ بات چیت کررہے ہیں۔

اسرائیل امریکا کی جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت پر معترض ہے اور اس نے اسی ہفتے ایک وفد واشنگٹن بھیجا تھا۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ دونوں اتحادی ممالک نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ایران کے علاقائی کردار سے ایک نمایاں خطرہ لاحق ہے۔

امریکا میں متعیّن اسرائیلی سفیر گیلاد ایردان نے کہاہے کہ بائیڈن انتظامیہ ایران سے کسی بھی نئی جوہری ڈیل کے بارے میں اسرائیل سے مشاورت کرے گی۔