.

القدس کا نام لے کر فلسطین میں ہونے والے انتخابات ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے یہ کہتے ہوئے انتخابات ملتوی کر نے کا اعلان کیا ہے کہ یہ بات واضح نہیں کہ اسرائیل یروشلم میں انتخابات کی اجازت دے گا یا نہیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے 29 اپریل جمعرات کے روز اعلان کیا کہ انتخابات اسی صورت میں کرائے جا سکتے ہیں جب اسرائیل یروشلم کے اس علاقے میں بھی ووٹنگ کی اجازت دے جسے اس نے اپنے آپ میں ضم کر رکھا ہے۔

فلسطین کی دو حریف سیاسی جماعتوں فتح اور حماس نے 22 مئی کو مقننہ کے انتخابات کرانے اور پھر اس کے بعد 31 جولائی کو صدارتی انتخابات کرانے کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ اگر اس معاہدے کے تحت 22 مئی کو عام انتخابات ہوتے تو فلسطین میں گزشتہ پندرہ برسوں میں یہ پہلے انتخابات ہوتے۔

مغربی کنارے کے رام اللہ میں مختلف فلسطینی گروپوں کے نمائندوں سے ملاقات اور صلاح و مشورے کے بعد محمود عباس نے کہا، ''یروشلم سمیت تمام فلسطینی علاقوں میں انتخابات کا ہونا ضروری ہے۔ یروشلم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یروشلم میں آباد ہمارے لوگ ووٹ دینے کے اپنے جمہوری حق کو چھوڑ سکتے ہیں۔''

اسرائیل کا موقف کیا ہے؟

اس سے قبل اسی ہفتے اسرائیل کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انتخابات، ''فلسطین کا داخلی مسئلہ ہے۔'' اور تیل ابیب کا اسے، ''روکنے یا اس میں کسی طرح کی مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔''

محمود عباس نے فلسطینی دھڑوں کو بتایا ہے کہ یروشلم کے سوال پر اسرائیلی حکام اب تک کوئی جواب نہیں دے سکے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں فی الوقت کوئی حکومت قائم نہیں ہے۔

اسرائیل خود تاریخ کے اپنے بدترین سیاسی بحران سے دو چار ہے جہاں گزشتہ مارچ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کسی ایک جماعت کو اکثریت نہیں ملی پائی تھی اس لیے ابھی تک حکومت نہیں بن پائی ہے۔

یروشلم میں ووٹ سے متعلق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب فریقین میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ رمضان کی ابتدا سے ہی اسرائیلی پابندیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں درجنوں فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ ایک زمانے سے ہی یہ شہر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جھگڑے کی اہم وجہ بھی رہا ہے۔

الیکشن موخر کرنے پر ردعمل

غزہ کے علاقے پر بر سر اقتدار اسلام پسند تحریک حماس نے یہ کہتے ہوئے محمود عباس کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے کہ یہ ایک طرح کی بغاوت ہے جسے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

بدھ کے روز حماس نے کہا تھا کہ وہ، ''انتخابات موخر کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتی ہے۔'' تاہم اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرقی یروشلم میں انتخابات کے بغیر وہ کسی بھی ووٹ کو تسلیم بھی نہیں کرے گی۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق محمود عباس کے اعلان سے قبل ہی رام اللہ میں مظاہرین اس مطالبے کے ساتھ جمع ہونے شروع ہوگئے تھے کہ انتخابات کسی بھی حال میں ملتوی نہ کیے جائیں اور مقررہ وقت پر ہی کرائے جائیں۔

غالب امکان اس بات کا ہے کہ مقامی سطح پر اس فیصلے کی سخت نکتہ چینی ہو گی۔ مبصرین کے مطابق محمود عباس کی طویل المعیاد حکومت سے لوگ کافی نالاں ہیں اور انتخابات ملتوی کرنے سے فی الوقت ان کی جماعت ایک شرمناک شکست سے بچ سکتی ہے۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ جہاں تک یروشلم کا سوال ہے تو وہاں ووٹنگ کے لیے اسکولوں اور مذہبی مقامات کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ انتخابات دو حریف جماعتوں فتح اور حماس میں مصالحت کے لیے بھی ایک بڑا قدم تھا تاہم محمود عباس کے فیصلے سے اسے بھی دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں